Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: At-Taubah 9:9

9:9
اشتروا بايات الله ثمنا قليلا فصدوا عن سبيله انهم ساء ما كانوا يعملون ٩
ٱشْتَرَوْا۟ بِـَٔايَـٰتِ ٱللَّهِ ثَمَنًۭا قَلِيلًۭا فَصَدُّوا۟ عَن سَبِيلِهِۦٓ ۚ إِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ٩
ٱشۡتَرَوۡاْ
بِـَٔايَٰتِ
ٱللَّهِ
ثَمَنٗا
قَلِيلٗا
فَصَدُّواْ
عَن
سَبِيلِهِۦٓۚ
إِنَّهُمۡ
سَآءَ
مَا
كَانُواْ
يَعۡمَلُونَ
٩
Mereka menukarkan ayat-ayat Allah dengan harga yang sedikit (dari faedah-faedah dunia), lalu mereka menghalangi (dirinya dan orang-orang lain) dari ugama Allah; sesungguhnya amatlah buruknya apa yang mereka telah kerjakan.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 9:9 hingga 9:11
جہاد ہی راہ اصلاح ہے ٭٭

مشرکوں کی مذمت کے ساتھ ہی مسلمانوں کو ترغیب جہاد دی جا رہی ہے کہ ان کافروں نے دنیائے خسیس کو آخرت نفیس کے بدلے پسند کر لیا ہے خود راہ رب سے ہٹ کر مومنوں کو بھی ایمان سے روک رہے ہیں ان کے اعمال بہت ہی بد ہیں یہ تو مومنوں کو نقصان پہنچانے کے ہی درپے ہیں نہ انہیں رشتے داری کا خیال نہ معاہدے کا پاس۔ یہ تو حد سے تجاوز کر گئے ہیں۔ ہاں اب بھی سچی توبہ اور نماز و زکوٰۃ کی پابندی انہیں تمہارا بنا سکتی ہے۔

چنانچہ بزار کی حديث میں ہے کہ جو دنیا کو اس حال میں چھوڑے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادتیں خلوص کے ساتھ کر رہا ہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناتا ہو نماز و زکوٰۃ کا پابند ہو تو اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہو کر ملے گا۔ یہی اللہ تعالیٰ کا وہ دین ہے جسے انبیاء علیہم السلام لاتے رہے اور اسی کی تبلیغ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ کرتے رہے۔ اس سے پہلے کہ باتیں پھیل جائیں اور خواہشیں بڑھ جائیں اس کی تصدیق کتاب اللہ میں موجود ہے کہ اگر وہ توبہ کر لیں یعنی بتوں کو اور بت پرستی کو چھوڑ دیں اور نمازی اور زکوٰۃ دینے والے بن جائیں تو تم ان کے راستے چھوڑ دو۔ [9-التوبة:5] ‏

اور آیت میں ہے کہ پھر تو یہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔ [9-التوبة:11] ‏

امام بزار رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”میرے خیال سے تو مرفوع حدیث وہیں پر ختم ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے رضامند ہو کر ملے گا اس کے بعد کا کلام راوی حدیث ربیع بن انس رحمہ اللہ علیہ کا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔‏“

صفحہ نمبر3403