Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: At-Taubah 9:52

9:52
قل هل تربصون بنا الا احدى الحسنيين ونحن نتربص بكم ان يصيبكم الله بعذاب من عنده او بايدينا فتربصوا انا معكم متربصون ٥٢
قُلْ هَلْ تَرَبَّصُونَ بِنَآ إِلَّآ إِحْدَى ٱلْحُسْنَيَيْنِ ۖ وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ أَن يُصِيبَكُمُ ٱللَّهُ بِعَذَابٍۢ مِّنْ عِندِهِۦٓ أَوْ بِأَيْدِينَا ۖ فَتَرَبَّصُوٓا۟ إِنَّا مَعَكُم مُّتَرَبِّصُونَ ٥٢
قُلۡ
هَلۡ
تَرَبَّصُونَ
بِنَآ
إِلَّآ
إِحۡدَى
ٱلۡحُسۡنَيَيۡنِۖ
وَنَحۡنُ
نَتَرَبَّصُ
بِكُمۡ
أَن
يُصِيبَكُمُ
ٱللَّهُ
بِعَذَابٖ
مِّنۡ
عِندِهِۦٓ
أَوۡ
بِأَيۡدِينَاۖ
فَتَرَبَّصُوٓاْ
إِنَّا
مَعَكُم
مُّتَرَبِّصُونَ
٥٢
Katakanlah: "(Sebenarnya) tidak ada yang kamu tunggu-tunggu untuk kami melainkan salah satu dari dua perkara yang sebaik-baiknya (iaitu kemenangan atau mati syahid); dan kami menunggu-nunggu pula untuk kamu bahawa Allah akan menimpakan kamu dengan azab dari sisiNya, atau dengan perantaraan tangan kami. Oleh itu tunggulah, sesungguhnya kami juga menunggu bersama-sama kamu".
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 9:52 hingga 9:54
شہادت ملی تو جنت، بچ گئے تو غازی ٭٭

مسلمانوں کے جہاد میں دو ہی انجام ہوتے ہیں اور دونوں ہر طرح اچھے ہیں۔ اگر شہادت ملی تو جنت اپنی ہے اور اگر فتح ملی تو غنیمت و اجر ہے۔ پس اے منافقو! تم جو ہماری بابت انتظار کر رہے ہو وہ انہی دو اچھائیوں میں سے ایک، ہے اور ہم جس بات کا انتظار تمہارے بارے میں کر رہے ہیں وہ دو برائیوں میں سے ایک کا ہے یعنی یا تو یہ کہ عذابِ رب براہ راست تم پر آ جائے یا ہمارے ہاتھوں سے تم پر رب کی مار پڑے کہ قتل و قید ہو جاؤ۔

اچھا اب تم اپنی جگہ اور ہم اپنی جگہ منتظر رہیں دیکھیں پردہ غیب سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟ تمہارے خرچ کرنے کا اللہ بھوکا نہیں تم خوشی سے دو تو اور ناراضگی سے دو تو وہ تو قبول فرمانے کا نہیں اس لیے کہ تم فاسق لوگ ہو۔ تمہارے خرچ کی عدم قبولیت کا باعث کفر ہے اور اعمال کی قبولیت کی شرط کفر کا نہ ہونا بلکہ ایمان کا ہونا ہے۔ ساتھ ہی کسی عمل میں تمہارا نیک قصد اور سچی ہمت نہیں نماز کو آتے ہو تو بھی ہارے دل سے گرتے پڑتے، مرتے بچھڑتے، سست اور کاہل ہو کر۔ دیکھا دیکھی مجمع میں دو چار دے بھی دیتے ہو تو مرے جی سے، دل کی تنگی سے۔ صادق و مصدوق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نہیں تھکتا لیکن تم تھک جاتے ہو۔ [صحیح بخاری:43] ‏ اللہ پاک ہے وہ پاک چیز ہی قبول فرماتا ہے۔ [صحیح بخاری:1410] ‏ متقیوں کی اعمال قبول ہوتے ہیں تم فاسق ہو تمہارے اعمال قبولیت سے گرے ہوئے ہیں۔

صفحہ نمبر3492