Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: At-Taubah 9:49

9:49
ومنهم من يقول ايذن لي ولا تفتني الا في الفتنة سقطوا وان جهنم لمحيطة بالكافرين ٤٩
وَمِنْهُم مَّن يَقُولُ ٱئْذَن لِّى وَلَا تَفْتِنِّىٓ ۚ أَلَا فِى ٱلْفِتْنَةِ سَقَطُوا۟ ۗ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌۢ بِٱلْكَـٰفِرِينَ ٤٩
وَمِنۡهُم
مَّن
يَقُولُ
ٱئۡذَن
لِّي
وَلَا
تَفۡتِنِّيٓۚ
أَلَا
فِي
ٱلۡفِتۡنَةِ
سَقَطُواْۗ
وَإِنَّ
جَهَنَّمَ
لَمُحِيطَةُۢ
بِٱلۡكَٰفِرِينَ
٤٩
Dan di antara mereka (yang munafik itu) ada yang berkata: "Izinkanlah aku (supaya tidak pergi berperang) dan janganlah engkau menjadikan daku dipengaruhi oleh fitnah ". Ketahuilah, mereka telah pun tercebur ke dalam fitnah (dengan dalihan yang dusta itu). Dan sesungguhnya azab Jahannam meliputi orang-orang yang kafir.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
جد بن قیس جیسے بدتمیزوں کا حشر ٭٭

جد بن قیس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سال نصرانیوں کے جلا وطن کرنے میں تو ہمارا ساتھ دے گا۔‏“ تو اس نے کہا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے تو معاف رکھئے میری ساری قوم جانتی ہے کہ میں عورتوں کا بےطرح شیدا ہوں عیسائی عورتوں کو دیکھ کر مجھ سے تو اپنا نفس روکا نہ جائے گا۔‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ موڑ لیا۔

اسی کا بیان اس آیت میں ہے کہ اس منافق نے یہ بہانہ بنایا حالانکہ وہ فتنے میں تو پڑا ہوا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑنا جہاد سے منہ موڑنا یہ کیا کم فتنہ ہے؟ یہ منافق بنو سلمہ قبیلے کا رئیس اعظم تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس قبیلے کے لوگوں سے دریافت فرمایا کہ ”تمہارا سردار کون ہے“؟ تو انہوں نے کہا ”جد بن قیس جو بڑا ہی شوم اور بخیل ہے۔‏“ آپ نے فرمایا: ”بخل سے بڑھ کر اور کیا بری بیماری ہے“؟ سنو اب سے تمہارا سردار نوجوان سفید اور خوبصورت بشر بن برابن معرور ہے۔ [طبرانی کبیر:163،164/19:صحیح] ‏ جہنم کافروں کو گھیر لینے والی ہے نہ اس سے وہ بچ سکیں نہ بھاگ سکیں نہ نجات پا سکیں۔

صفحہ نمبر3489