Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: At-Taubah 9:127

9:127
واذا ما انزلت سورة نظر بعضهم الى بعض هل يراكم من احد ثم انصرفوا صرف الله قلوبهم بانهم قوم لا يفقهون ١٢٧
وَإِذَا مَآ أُنزِلَتْ سُورَةٌۭ نَّظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ هَلْ يَرَىٰكُم مِّنْ أَحَدٍۢ ثُمَّ ٱنصَرَفُوا۟ ۚ صَرَفَ ٱللَّهُ قُلُوبَهُم بِأَنَّهُمْ قَوْمٌۭ لَّا يَفْقَهُونَ ١٢٧
وَإِذَا
مَآ
أُنزِلَتۡ
سُورَةٞ
نَّظَرَ
بَعۡضُهُمۡ
إِلَىٰ
بَعۡضٍ
هَلۡ
يَرَىٰكُم
مِّنۡ
أَحَدٖ
ثُمَّ
ٱنصَرَفُواْۚ
صَرَفَ
ٱللَّهُ
قُلُوبَهُم
بِأَنَّهُمۡ
قَوۡمٞ
لَّا
يَفۡقَهُونَ
١٢٧
Dan apabila diturunkan satu surah dari Al-Quran (mendedahkan keburukan orang-orang munafik itu) setengah mereka memandang kepada setengahnya yang lain sambil berkata: "Adakah sesiapa nampak kamu (kalau kita undur dari sini)?" Kemudian mereka berpaling pergi (dengan meninggalkan majlis Nabi); Allah memalingkan hati mereka (daripada iman), disebabkan mereka kaum yang tidak (mahu) mengerti.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 9:126 hingga 9:127
عذاب سے دوچار ہونے کے بعد بھی منافق باز نہیں آتا ٭٭

یہ منافق اتنا بھی نہیں سوچتے کہ ہر سال دو ایک دفعہ ضرور وہ کسی نہ کسی عذاب میں مبتلا کئے جاتے ہیں۔ لیکن پھر بھی انہیں اپنے گزشتہ گناہوں سے توبہ نصیب ہوتی ہے نہ آئندہ کے لیے عبرت ہوتی ہے۔ کبھی قحط سالی ہے، کبھی جنگ ہے، کبھی جھوٹی گپیں ہیں جن سے لوگ بیچین ہو رہے ہیں۔

فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کاموں میں سختی بڑھ رہی ہے۔ بخیلی عام ہو رہی ہے ہر سال اپنے سے پہلے کے سال سے بد آ رہا ہے۔ [صحیح بخاری:7068] ‏

جب کوئی سورت اترتی ہے ایک دوسرے کی طرف دیکھتا ہے کہ کوئی دیکھ تو نہیں رہا؟ پھر حق سے پلٹ جاتے ہیں نہ حق کو سمجھیں نہ مانیں۔ وعظ سے منہ پھیرلیں اور ایسے بھاگیں جیسے گدھا شیر سے۔ حق کو سنا اور دائیں بائیں کھسک گئے۔ ان کی اس بےایمانی کا بدلہ یہی ہے کہ اللہ نے ان کے دل بھی حق سے پھیر دیئے۔ ان کی کجی نے ان کے دل بھی ٹیرھے کر دیئے۔ یہ بدلہ ہے اللہ کے خطاب کو بےپرواہی کر کے نہ سمجھنے کا اس سے بھاگنے اور منہ موڑ لینے کا۔

صفحہ نمبر3637