Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: At-Taubah 9:12

9:12
وان نكثوا ايمانهم من بعد عهدهم وطعنوا في دينكم فقاتلوا ايمة الكفر انهم لا ايمان لهم لعلهم ينتهون ١٢
وَإِن نَّكَثُوٓا۟ أَيْمَـٰنَهُم مِّنۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوا۟ فِى دِينِكُمْ فَقَـٰتِلُوٓا۟ أَئِمَّةَ ٱلْكُفْرِ ۙ إِنَّهُمْ لَآ أَيْمَـٰنَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنتَهُونَ ١٢
وَإِن
نَّكَثُوٓاْ
أَيۡمَٰنَهُم
مِّنۢ
بَعۡدِ
عَهۡدِهِمۡ
وَطَعَنُواْ
فِي
دِينِكُمۡ
فَقَٰتِلُوٓاْ
أَئِمَّةَ
ٱلۡكُفۡرِ
إِنَّهُمۡ
لَآ
أَيۡمَٰنَ
لَهُمۡ
لَعَلَّهُمۡ
يَنتَهُونَ
١٢
Dan jika mereka mencabuli sumpahnya sesudah mengikat perjanjian setia, dan mereka pula mencela ugama kamu, maka perangilah ketua-ketua dan pemimpin-pemimpin kaum yang kafir itu, kerana sesungguhnya mereka tidak menghormati sumpah janjinya, supaya mereka berhenti (dari kekufuran dan bertaubat).
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
وعدہ خلاف قوم کو دندان شکن جواب دو ٭٭

اگر یہ مشرک اپنی قسموں کو توڑ کر وعدہ خلافی اور عہد شکنی کریں اور تمہارے دین پر اعتراض کرنے لگیں تو تم ان کے کفر کے سروں کو توڑ مروڑ دو۔ اسی لیے علماء نے کہا ہے کہ ”جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دے، دین میں عیب جوئی کرے، اس کا ذکر اہانت کے ساتھ کرے اسے قتل کر دیا جائے۔‏“ ان کی قسمیں محض بے اعتبار ہیں۔ یہی طریقہ ان کے کفر و عناد سے روکنے کا ہے۔

ابوجہل، عتبہ، شیبہ امیہ وغیرہ یہ سب سردارن کفر تھے۔ ایک خارجی نے سیدنا سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ کو کہا کہ ”یہ کفر کے پیشواؤں میں سے ایک ہے“ آپ نے فرمایا: ”تو جھوٹا ہے میں تو ان میں سے ہوں جنہوں نے کفر کے پیشواؤں کو قتل کیا تھا۔‏“

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اس آیت والے اس کے بعد قتل نہیں کئے گئے۔‏“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ صحیح یہ ہے کہ آیت عام ہے گو سبب نزول کے اعتبار سے اس سے مراد مشرکین قریش ہیں لیکن حکماً یہ انہیں اور سب کو شامل ہے واللہ اعلم۔

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے شام کی طرف لشکر بھیجا تو ان سے فرمایا کہ ”تمہیں ان میں کچھ لوگ ایسے ملیں گے جن کی چندھیا منڈی ہوئی ہو گی تو تم اس شیطانی بیٹھک کو تلوار سے دو ٹکڑے کر دینا واللہ! ان میں سے ہر ایک کا قتل اور ستر لوگوں کے قتل سے مجھے زیادہ پسند ہے اسلیے کہ فرمان الٰہی ہے کفر کے اماموں کو قتل کرو“ [ ابن ابی حاتم ] ‏

صفحہ نمبر3406