Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Asy-Syura 42:45

42:45
وتراهم يعرضون عليها خاشعين من الذل ينظرون من طرف خفي وقال الذين امنوا ان الخاسرين الذين خسروا انفسهم واهليهم يوم القيامة الا ان الظالمين في عذاب مقيم ٤٥
وَتَرَىٰهُمْ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا خَـٰشِعِينَ مِنَ ٱلذُّلِّ يَنظُرُونَ مِن طَرْفٍ خَفِىٍّۢ ۗ وَقَالَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِنَّ ٱلْخَـٰسِرِينَ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ ۗ أَلَآ إِنَّ ٱلظَّـٰلِمِينَ فِى عَذَابٍۢ مُّقِيمٍۢ ٤٥
وَتَرَىٰهُمۡ
يُعۡرَضُونَ
عَلَيۡهَا
خَٰشِعِينَ
مِنَ
ٱلذُّلِّ
يَنظُرُونَ
مِن
طَرۡفٍ
خَفِيّٖۗ
وَقَالَ
ٱلَّذِينَ
ءَامَنُوٓاْ
إِنَّ
ٱلۡخَٰسِرِينَ
ٱلَّذِينَ
خَسِرُوٓاْ
أَنفُسَهُمۡ
وَأَهۡلِيهِمۡ
يَوۡمَ
ٱلۡقِيَٰمَةِۗ
أَلَآ
إِنَّ
ٱلظَّٰلِمِينَ
فِي
عَذَابٖ
مُّقِيمٖ
٤٥
Dan engkau juga akan melihat mereka didedahkan kepada neraka dalam keadaan tunduk membisu dengan sebab kehinaan (yang mereka rasai) sambil memandang (ke neraka itu) hanya dengan mengerling (kerana gerun takut). Dan orang-orang yang beriman pula berkata: "Sesungguhnya orang-orang yang rugi (dengan sebenar-benarnya) ialah mereka yang merugikan dirinya sendiri dan pengikut-pengikutnya pada hari kiamat (dengan sebab mereka memilih perbuatan derhaka di dunia). Ingatlah! Sesungguhnya orang-orang yang zalim itu berada dalam azab seksa yang kekal".
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 42:44 hingga 42:46
اللہ تعالٰی کو کوئی پوچھنے والا نہیں ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا اور نہ اسے کوئی کر سکتا ہے وہ جسے راہ راست دکھا دے اسے بہکا نہیں سکتا اور جس سے وہ راہ حق گم کر دے اسے کوئی اس راہ کو دکھا نہیں سکتا اور جگہ فرمان ہے «وَمَنْ يُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِيًّا مُّرْشِدًا» [ 18- الكهف: 17 ] ‏ جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی چارہ ساز اور رہبر نہیں۔ پھر فرماتا ہے یہ مشرکین قیامت کے عذاب کو دیکھ کر دوبارہ دنیا میں آنے کی تمنا کریں گے جیسے اور جگہ ہے «‏وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ بَلْ بَدَا لَهُم مَّا كَانُوا يُخْفُونَ مِن قَبْلُ ۖ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ» ‏ [ 6- الانعام: 28، 27 ] ‏ کاش کہ تو انہیں دیکھتا جب کہ یہ دوزخ کے پاس کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے ہائے کیا اچھی بات ہو کہ ہم دوبارہ واپس بھیج دئیے جائیں تو ہم ہرگز اپنے رب کی آیتوں کو جھوٹ نہ بتائیں بلکہ ایمان لے آئیں۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ لوگ جس چیز کو اس سے پہلے پوشیدہ کئے ہوئے تھے وہ ان کے سامنے آ گئی۔ بات یہ ہے کہ اگر یہ دوبارہ بھیج بھی دیئے جائیں تب بھی وہی کریں گے جس سے منع کئے جاتے ہیں یقیناً یہ جھوٹے ہیں۔

صفحہ نمبر8185

پھر فرمایا یہ جہنم کے پاس لائے جائیں گے اور اللہ کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر ذلت برس رہی ہو گی عاجزی سے جھکے ہوئے ہوں گے اور نظریں بچاکر جہنم کو تک رہے ہوں گے۔ خوف زدہ اور حواس باختہ ہو رہے ہوں گے لیکن جس سے ڈر رہے ہیں اس سے بچ نہ سکیں گے نہ صرف اتنا ہی بلکہ ان کے وہم و گمان سے بھی زیادہ عذاب انہیں ہو گا۔ اللہ ہمیں محفوظ رکھے اس وقت ایماندار لوگ کہیں گے کہ حقیقی نقصان یافتہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ساتھ اپنے والوں کو بھی جہنم واصل کیا یہاں تک کہ آج کی ابدی نعمتوں سے محروم رہے اور انہیں بھی محروم رکھا آج وہ سب الگ الگ عذاب میں مبتلا ہیں دائمی ابدی اور سرمدی سزائیں بھگت رہے ہیں اور یہ ناامید ہو جائیں آج کوئی ایسا نہیں جو ان عذابوں سے چھڑا سکے یا تخفیف کرا سکے ان گمراہوں کو خلاصی دینے والا کوئی نہیں۔

صفحہ نمبر8186