Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Asy-Syura 42:13

42:13
۞ شرع لكم من الدين ما وصى به نوحا والذي اوحينا اليك وما وصينا به ابراهيم وموسى وعيسى ان اقيموا الدين ولا تتفرقوا فيه كبر على المشركين ما تدعوهم اليه الله يجتبي اليه من يشاء ويهدي اليه من ينيب ١٣
۞ شَرَعَ لَكُم مِّنَ ٱلدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِۦ نُوحًۭا وَٱلَّذِىٓ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِۦٓ إِبْرَٰهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَىٰٓ ۖ أَنْ أَقِيمُوا۟ ٱلدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا۟ فِيهِ ۚ كَبُرَ عَلَى ٱلْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ ۚ ٱللَّهُ يَجْتَبِىٓ إِلَيْهِ مَن يَشَآءُ وَيَهْدِىٓ إِلَيْهِ مَن يُنِيبُ ١٣
۞ شَرَعَ
لَكُم
مِّنَ
ٱلدِّينِ
مَا
وَصَّىٰ
بِهِۦ
نُوحٗا
وَٱلَّذِيٓ
أَوۡحَيۡنَآ
إِلَيۡكَ
وَمَا
وَصَّيۡنَا
بِهِۦٓ
إِبۡرَٰهِيمَ
وَمُوسَىٰ
وَعِيسَىٰٓۖ
أَنۡ
أَقِيمُواْ
ٱلدِّينَ
وَلَا
تَتَفَرَّقُواْ
فِيهِۚ
كَبُرَ
عَلَى
ٱلۡمُشۡرِكِينَ
مَا
تَدۡعُوهُمۡ
إِلَيۡهِۚ
ٱللَّهُ
يَجۡتَبِيٓ
إِلَيۡهِ
مَن
يَشَآءُ
وَيَهۡدِيٓ
إِلَيۡهِ
مَن
يُنِيبُ
١٣
Allah telah menerangkan kepada kamu - di antara perkara-perkara ugama yang Ia tetapkan hukumnya - apa yang telah diperintahkanNya kepada Nabi Nuh, dan yang telah Kami (Allah) wahyukan kepadamu (wahai Muhammad), dan juga yang telah Kami perintahkan kepada Nabi Ibrahim dan Nabi Musa serta Nabi Isa, iaitu: "Tegakkanlah pendirian ugama, dan janganlah kamu berpecah belah atau berselisihan pada dasarnya". Berat bagi orang-orang musyrik (untuk menerima ugama tauhid) yang engkau seru mereka kepadanya. Allah memilih serta melorongkan sesiapa yang dikehendakiNya untuk menerima ugama tauhid itu, dan memberi hidayah petunjuk kepada ugamaNya itu sesiapa yang rujuk kembali kepadaNya (dengan taat).
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
امت محمدیہ پر شریعت الٰہی کا انعام ٭٭

اللہ تعالیٰ نے جو انعام اس امت پر کیا ہے اس کا ذکر یہاں فرماتا ہے کہ تمہارے لیے جو شرع مقرر کی ہے وہ ہے جو آدم کے بعد دنیا کے سب سے پہلے پیغمبر اور دنیا کے سب سے آخری پیغمبر اور ان کے درمیان کے اولو العزم پیغمبروں کی تھی۔ پس یہاں جن پانچ پیغمبروں کا ذکر ہوا ہے انہی پانچ کا ذکر سورۃ الاحزاب میں بھی کیا گیا ہے فرمایا: «‏وَاِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّـبِيّٖنَ مِيْثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُّوْحٍ وَّاِبْرٰهِيْمَ وَمُوْسٰى وَعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ ۠ وَاَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيْظًا» [ 33- الأحزاب: 7 ] ‏، وہ دین جو تمام انبیاء کا مشترک طور پر ہے وہ اللہ واحد کی عبادت ہے جیسے اللہ جل و علا کا فرمان ہے «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ» ‏ [ سورة الأنبياء21: 25 ] ‏ یعنی تجھ سے پہلے جتنے بھی رسول آئے ان سب کی طرف ہم نے یہی وحی کی ہے کہ معبود میرے سوا کوئی نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کرتے رہو حدیث میں ہے ہم انبیاء کی جماعت آپس میں علاتی بھائیوں کی طرح ہیں ہم سب کا دین ایک ہی ہے جیسے علاتی بھائیوں کا باپ ایک ہوتا ہے۔ [صحیح بخاری:3443] ‏

صفحہ نمبر8127

الغرض احکام شرع میں گو جزوی اختلاف ہو۔ لیکن اصولی طور پر دین ایک ہی ہے اور وہ توحید باری تعالیٰ ہے، فرمان اللہ ہے «لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا» ‏ [ 5- المآئدہ: 48 ] ‏ تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے شریعت و راہ بنا دی ہے۔ یہاں اس وحی کی تفصیل یوں بیان ہو رہی ہے کہ دین کو قائم رکھو جماعت بندی کے ساتھ اتفاق سے رہو اختلاف اور پھوٹ نہ کرو پھر فرماتا ہے کہ یہی توحید کی صدائیں ان مشرکوں کو ناگوار گزرتی ہیں۔ حق یہ ہے کہ ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے جو مستحق ہدایت ہوتا ہے وہ رب کی طرف رجوع کرتا ہے اور اللہ اس کا ہاتھ تھام کر ہدایت کے راستے لا کھڑا کرتا ہے اور جو از خود برے راستے کو اختیار کر لیتا ہے اور صاف راہ چھوڑ دیتا ہے اللہ بھی اس کے ماتھے پر ضلالت لکھ دیتا ہے۔

صفحہ نمبر8128