Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tazkir ul Quran Tafsir: Ar-Ruum Ayah 57

30:57
فيوميذ لا ينفع الذين ظلموا معذرتهم ولا هم يستعتبون ٥٧
فَيَوْمَئِذٍۢ لَّا يَنفَعُ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ ٥٧
فَيَوۡمَئِذٖﲧ
لَّاﲨ
يَنفَعُﲩ
ٱلَّذِينَﲪ
ظَلَمُواْﲫ
مَعۡذِرَتُهُمۡﲬ
وَلَاﲭ
هُمۡﲮ
يُسۡتَعۡتَبُونَﲯ
٥٧ﲰ
Maka pada hari itu tidak berguna lagi bagi orang-orang yang zalim, sebarang alasan yang mereka kemukakan untuk melepaskan diri, dan mereka pula tidak diberi peluang untuk memohon keredaan Allah.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 30:54 hingga 30:57

انسان پیدا ہوتا ہے تووہ نہایت کمزور بچہ ہوتاہے۔ پھر درمیان میں طاقت اور جوانی کے کچھ سال گزارنے کے بعد دوبارہ بڑھاپے کی کمزوری آجاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی طاقت اس کی اپنی نہیں ہے۔ وہ اس کو دینے سے ملتی ہے۔ یہ دینے والے کے اختیار میں ہے کہ وہ جب چاہے دے اور جب چاہے واپس لے لے۔

دنیا کی زندگی میں آدمی آخرت کےلیے فکر مند نہیں ہوتا ۔ کیوں کہ قیامت اس کو بہت دور کی چیز معلوم ہوتی ہے۔ مگر یہ صرف بے خبری کی بات ہے۔ قیامت جب آئے گی تو اس کو ایسا معلوم ہوگا کہ بس ایک گھڑی پچھلی دنیا میں رہنا ہوا تھا کہ اگلی دنیا کا مرحلہ پیش آگیا۔