Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa
30:56
وقال الذين اوتوا العلم والايمان لقد لبثتم في كتاب الله الى يوم البعث فهاذا يوم البعث ولاكنكم كنتم لا تعلمون ٥٦
وَقَالَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْعِلْمَ وَٱلْإِيمَـٰنَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِى كِتَـٰبِ ٱللَّهِ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْبَعْثِ ۖ فَهَـٰذَا يَوْمُ ٱلْبَعْثِ وَلَـٰكِنَّكُمْ كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ٥٦
وَقَالَ
ٱلَّذِينَ
أُوتُواْ
ٱلۡعِلۡمَ
وَٱلۡإِيمَٰنَ
لَقَدۡ
لَبِثۡتُمۡ
فِي
كِتَٰبِ
ٱللَّهِ
إِلَىٰ
يَوۡمِ
ٱلۡبَعۡثِۖ
فَهَٰذَا
يَوۡمُ
ٱلۡبَعۡثِ
وَلَٰكِنَّكُمۡ
كُنتُمۡ
لَا
تَعۡلَمُونَ
٥٦
Dan (bagi menjawabnya) berkatalah orang-orang yang berilmu serta beriman: "Demi sesungguhnya, kamu telah tinggal - menurut yang terkandung dalam Kitab Allah - sampai ke hari kebangkitan (hari kiamat); maka inilah dia hari kebangkitan (yang dijanjikan) itu, akan tetapi kamu dari dahulu lagi tidak mahu mengetahui (kebenarannya)".
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 30:55 hingga 30:57
واپسی ناممکن ہو گی ٭٭

اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ” کفار دنیا اور آخرت کے کاموں سے بالکل جاہل ہیں۔ دنیا میں ان کی جہالت تو یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ اوروں کو شریک کرتے رہے اور اخرت میں یہ جہالت کریں گے کہ قسمیں کھا کر کہیں گے کہ ہم دنیا میں صرف ایک ساعت ہی رہے “۔

اس سے ان کامقصد یہ ہو گا کہ اتنے تھوڑے سے وقت میں ہم پر کوئی حجت قائم نہیں ہوئی۔ ہمیں معذور سمجھا جائے۔ اسی لیے فرمایا کہ ” یہ جیسے یہاں بہکی بہکی باتیں کررے ہیں دنیا میں یہ بہکے ہوئے ہی رہے “۔

فرماتا ہے کہ ” علماء کرام جس طرح ان کے اس کہنے پر دنیا میں انہیں دلائل دے کر قائل معقول کرتے رہے آخرت میں بھی ان سے کہیں گے کہ تم جھوٹی قسمیں کھا رہے ہو “۔

تم کتاب اللہ یعنی کتاب اعمال میں اپنی پیدائش سے لے کر جی اٹھنے تک ٹھہرے رہے لیکن تم بےعلم اور نرے جاہل لوگ ہو۔ پس قیامت کے دن ظالموں کو اپنے کرتوت سے معذرت کرنا محض بےسود رہے گا۔ اور دنیا کی طرف لوٹائے نہ جائیں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَاِنْ يَّسْـتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَـبِيْنَ» ‏ [41-فصلت:24] ‏ یعنی ” اگر وہ دنیا کی طرف لوٹنا چاہیں تو لوٹ نہیں سکتے “۔

صفحہ نمبر6825