Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa
30:46
ومن اياته ان يرسل الرياح مبشرات وليذيقكم من رحمته ولتجري الفلك بامره ولتبتغوا من فضله ولعلكم تشكرون ٤٦
وَمِنْ ءَايَـٰتِهِۦٓ أَن يُرْسِلَ ٱلرِّيَاحَ مُبَشِّرَٰتٍۢ وَلِيُذِيقَكُم مِّن رَّحْمَتِهِۦ وَلِتَجْرِىَ ٱلْفُلْكُ بِأَمْرِهِۦ وَلِتَبْتَغُوا۟ مِن فَضْلِهِۦ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ٤٦
وَمِنۡ
ءَايَٰتِهِۦٓ
أَن
يُرۡسِلَ
ٱلرِّيَاحَ
مُبَشِّرَٰتٖ
وَلِيُذِيقَكُم
مِّن
رَّحۡمَتِهِۦ
وَلِتَجۡرِيَ
ٱلۡفُلۡكُ
بِأَمۡرِهِۦ
وَلِتَبۡتَغُواْ
مِن
فَضۡلِهِۦ
وَلَعَلَّكُمۡ
تَشۡكُرُونَ
٤٦
Dan di antara tanda-tanda yang membuktikan kekuasaanNya, bahawa Ia menghantarkan angin sebagai pembawa berita yang mengembirakan; dan untuk merasakan kamu sedikit dari rahmatNya, dan supaya kapal-kapal belayar laju dengan perintahNya, dan juga supaya kamu dapat mencari rezeki dari limpah kurniaNya; dan seterusnya supaya kamu bersyukur.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 30:46 hingga 30:47
مسلمان بھائی کی اعانت پر جہنم سے نجات کا وعدہ ٭٭

بارش کے آنے سے پہلے بھینی بھینی ہواؤں کا چلنا اور لوگوں کو بارش کی امید دلانا۔ اس کے بعد مینہ برسانا تاکہ بستیاں آباد رہیں اور جاندار زندہ رہیں سمندروں اور دریاؤں میں جہاز اور کشتیاں چلیں۔ کیونکہ کشتیوں کا چلنا بھی ہوا پر موقوف ہے۔

” اب تم اپنی تجارت اور کمائی دھندے کے لیے ادھر سے ادھر، ادھر سے ادھر جاسکو۔ پس تمہیں چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ کی ان بےشمار ان گنت تعمتوں پر اس کا شکریہ ادا کرو “۔

پھر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسکین اور تسلی دینے کے لیے فرماتا ہے کہ ” اگر آپ کو لوگ جھٹلاتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے کوئی انوکھی بات نہ سمجھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے رسولوں کو بھی ان کی امتوں نے ایسے ہی ٹیڑھے ترچھے فقرے سنائے ہیں۔ وہ بھی صاف روشن اور واضح دلیلیں معجزے اور احکام لائے تھے بالآخر جھٹلانے والے عذاب کے شنکجے میں کس دئیے گئے اور مومنوں کو اس وقت ہر قسم کی برائی سے نجات ملی “۔

اپنے فضل سے اللہ تعالیٰ جل شانہ نے اپنے نفس کریم پر یہ بات لازم کر لی ہے کہ وہ اپنے با ایمان بندوں کو مدد دے گا۔ جیسے فرمان ہے آیت «كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰي نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ» [6-الأنعام:54] ‏۔

ابن ابی حاتم میں حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی آبرو بچالے اللہ پر حق ہے کہ وہ اس سے جہنم کی آگ کو ہٹالے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا آیت «وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ» [30-الروم:47] ‏۔ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:580،] ‏

صفحہ نمبر6813