Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tazkir ul Quran Tafsir: Ar-Ruum Ayah 42

30:42
قل سيروا في الارض فانظروا كيف كان عاقبة الذين من قبل كان اكثرهم مشركين ٤٢
قُلْ سِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَٱنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلُ ۚ كَانَ أَكْثَرُهُم مُّشْرِكِينَ ٤٢
قُلۡﱁ
سِيرُواْﱂ
فِيﱃ
ٱلۡأَرۡضِﱄ
فَٱنظُرُواْﱅ
كَيۡفَﱆ
كَانَﱇ
عَٰقِبَةُﱈ
ٱلَّذِينَﱉ
مِنﱊ
قَبۡلُۚﱋﱌ
كَانَﱍ
أَكۡثَرُهُمﱎ
مُّشۡرِكِينَﱏ
٤٢ﱐ
Katakanlah: "Mengembaralah kamu di muka bumi kemudian lihatlah bagaimana kesudahan orang-orang yang telah lalu (yang telah dibinasakan); kebanyakan mereka adalah orang-orang musyrik".
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 30:40 hingga 30:42

ایک انسان کا پیدا ہونا، اس کو صبح وشام کا رزق ملنا، اس پر موت واقع ہونا، یہ واقعات اتنے عظیم ہیں کہ ان کے ظہور کےلیے کائناتی قوت درکار ہے۔ اور خالق کائنات کے سوا کوئی بھی مفروضہ ہستی ایسی نہیں جو اس قسم کی کائناتی قوت رکھتی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ توحید اپنی دلیل آپ ہے اور شرک اپنی تردید آپ۔

اگر انسان ایک خدا کو اپنا معبود بنائے تو سب کا مرکز توجہ ایک ہوتاہے۔ اس سے انسانوں کے درمیان اتحادکی فضا پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، جب دوسرے دوسرے معبود بنائے جانے لگیں تو بے شمار چیزیں مرکز توجہ بن جاتی ہیں۔ اس سے افراد اور قوموں میں عناد اور اختلاف پیدا ہوتا ہے۔ خشکی اور سمندر اور فضا سب فساد سے بھر جاتے ہیں۔

انسان کی بے راہ روی کا مستقل انجام موت کے بعد سامنے آنے والا ہے۔ مگر انسان کی بے راہ روی کا وقتی انجام اسی دنیا میں دکھایا جاتا ہے تاکہ لوگوں کو یاد دہانی ہو۔