Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Ar-Rahmaan 55:54

55:54
متكيين على فرش بطاينها من استبرق وجنى الجنتين دان ٥٤
مُتَّكِـِٔينَ عَلَىٰ فُرُشٍۭ بَطَآئِنُهَا مِنْ إِسْتَبْرَقٍۢ ۚ وَجَنَى ٱلْجَنَّتَيْنِ دَانٍۢ ٥٤
مُتَّكِـِٔينَ
عَلَىٰ
فُرُشِۭ
بَطَآئِنُهَا
مِنۡ
إِسۡتَبۡرَقٖۚ
وَجَنَى
ٱلۡجَنَّتَيۡنِ
دَانٖ
٥٤
Mereka (bersenang-senang di tempat masing-masing dalam Syurga itu dengan) berbaring di atas hamparan-hamparan, yang lapisan-lapisan sebelah dalamnya - dari sutera tebal yang bersulam; dan buah-buahan kedua-dua Syurga itu dekat (kepada mereka) untuk dipetik.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 55:54 hingga 55:55
جنت یافتہ لوگ ٭٭

جنتی لوگ بےفکری سے تکئيے لگائے ہوئے ہوں گے، خواہ لیٹے ہوئے ہوں خواہ باآرام بیٹھے ہوئے تکیہ سے لگے ہوئے ہوں، ان کے بچھاؤنے بھی اتنے بڑھیا ہوں گے کہ ان کے اندر کا استر بھی دبیز اور خالص زرین ریشم کا ہو گا، پھر اوپر کا ابرا کچھ ایسا ہو گا، اسے تم خود سوچ لو۔

مالک بن دینار اور سفیان ثوری رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں استر کا یہ حال ہے اور ابرا تو محض نورانی ہو گا- جو سراسر اظہار رحمت و نور ہو گا۔ پھر اس پر بہترین گلکاریاں ہوں گی، جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ان جنتوں کے پھل جنتیوں سے بالکل قریب ہیں۔ جب چاہے جس حال میں چاہیں وہاں سے لے لیں، لیٹے ہوں تو بیٹھا ہونے کی اور بیٹھے ہوں تو کھڑا ہونے کی ضرورت نہیں، خودبخود شاخیں جھوم جھوم کر جھکتی رہتی ہیں۔ جیسے فرمایا «‏قُطُوْفُهَا دَانِيَةٌ» [69- الحاقة:23] ‏ اور فرمایا «‏وَدَانِيَةً عَلَيْهِمْ ظِلٰلُهَا وَذُلِّـلَتْ قُـطُوْفُهَا تَذْلِيْلًا» ‏ [76- الإنسان:14] ‏ الخ، یعنی بے حد قریب میوے ہیں لینے والے کو کوئی تکلیف یا تکلف کی ضرورت نہیں، خود شاخیں جھک جھک کر انہیں میوے دے رہی ہیں پس تم اپنے رب کی نعمتوں کے انکار سے باز رہو۔

صفحہ نمبر9123