Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tazkir ul Quran Tafsir: Ar-Ra'd Ayah 36

13:36
والذين اتيناهم الكتاب يفرحون بما انزل اليك ومن الاحزاب من ينكر بعضه قل انما امرت ان اعبد الله ولا اشرك به اليه ادعو واليه ماب ٣٦
وَٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَـٰهُمُ ٱلْكِتَـٰبَ يَفْرَحُونَ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ ۖ وَمِنَ ٱلْأَحْزَابِ مَن يُنكِرُ بَعْضَهُۥ ۚ قُلْ إِنَّمَآ أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ ٱللَّهَ وَلَآ أُشْرِكَ بِهِۦٓ ۚ إِلَيْهِ أَدْعُوا۟ وَإِلَيْهِ مَـَٔابِ ٣٦
وَٱلَّذِينَﱚ
ءَاتَيۡنَٰهُمُﱛ
ٱلۡكِتَٰبَﱜ
يَفۡرَحُونَﱝ
بِمَآﱞ
أُنزِلَﱟ
إِلَيۡكَۖﱠﱡ
وَمِنَﱢ
ٱلۡأَحۡزَابِﱣ
مَنﱤ
يُنكِرُﱥ
بَعۡضَهُۥۚﱦﱧ
قُلۡﱨ
إِنَّمَآﱩ
أُمِرۡتُﱪ
أَنۡﱫ
أَعۡبُدَﱬ
ٱللَّهَﱭ
وَلَآﱮ
أُشۡرِكَﱯ
بِهِۦٓۚﱰﱱ
إِلَيۡهِﱲ
أَدۡعُواْﱳ
وَإِلَيۡهِﱴ
مَـَٔابِﱵ
٣٦ﱶ
Dan orang-orang yang Kami berikan Kitab, mereka bersukacita dengan apa yang Kami turunkan kepadamu (wahai Muhammad) dan di antara beberapa kumpulan dari orang-orang itu ada yang mengingkari sebahagiannya. Katakanlah: "Sesungguhnya aku hanya diperintahkan supaya menyembah Allah, dan supaya aku tidak mempersekutukanNya dengan sesuatu yang lain: kepadaNyalah aku menyeru (manusia semuanya untuk menyembahNya), dan kepadaNyalah tempat kembaliku (dan kamu semuanya untuk menerima balasan)".
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 13:36 hingga 13:37

قرآن آیا تو یہود ونصاریٰ میں دو گروہ ہوگئے۔ ان میں جو لوگ اللہ سے ڈرنے والے تھے اور حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح کی سچی تعلیمات پر قائم تھے، انھوںنے قرآن کو اپنے دل کی آواز سمجھا اور خوش ہوکر اس کو قبول کرلیا۔ مگر جو لوگ عصبیت اور گروہ بندی کو دین سمجھے ہوئے تھے وہ اپنے مانوس دائرہ سے باہر آنے والی سچائی کو پہچان نہ سکے اور اس کے مخالف بن کر کھڑے ہوگئے اللہ سے ان کی بے خوفی نے دعوتِ حق کی مخالفت میں بھی ان کو بے خوف بنا دیا۔

جو شخص عصبیت اور گروہ بندی کی بنا پر سچائی کا مخالف بنتا ہے وہ دراصل خدا کو چھوڑ کر اپنی خواہشات پر چلتا ہے۔ ایسے لوگوں کی رعایت سے دعوت حق میں کوئی تبدیلی کرنا داعی کے لیے جائز نہیں۔ داعی کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے قول اور فعل سے بے لاگ حق پر پوری طرح جما رہے۔ ایسے لوگوں کے مقابلہ میں اس کو استقامت کا ثبوت دینا ہے، نہ کہ مصالحت کا ۔

آدمی کے سامنے اس کی قابل فہم زبان میں حق کا علم آجائے۔ اس کے باوجود وہ خواہشات کا پیرو بنا رہے تو یہ بے حد سنگین بات ہے۔ کیونکہ یہ ایسا فعل ہے جو آدمی کو خدا کی مدد سے یکسر محروم کردیتاہے۔