Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tazkir ul Quran Tafsir: Ar-Ra'd Ayah 22

13:22
والذين صبروا ابتغاء وجه ربهم واقاموا الصلاة وانفقوا مما رزقناهم سرا وعلانية ويدرءون بالحسنة السيية اولايك لهم عقبى الدار ٢٢
وَٱلَّذِينَ صَبَرُوا۟ ٱبْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَأَقَامُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَأَنفَقُوا۟ مِمَّا رَزَقْنَـٰهُمْ سِرًّۭا وَعَلَانِيَةًۭ وَيَدْرَءُونَ بِٱلْحَسَنَةِ ٱلسَّيِّئَةَ أُو۟لَـٰٓئِكَ لَهُمْ عُقْبَى ٱلدَّارِ ٢٢
وَٱلَّذِينَﱩ
صَبَرُواْﱪ
ٱبۡتِغَآءَﱫ
وَجۡهِﱬ
رَبِّهِمۡﱭ
وَأَقَامُواْﱮ
ٱلصَّلَوٰةَﱯ
وَأَنفَقُواْﱰ
مِمَّاﱱ
رَزَقۡنَٰهُمۡﱲ
سِرّٗاﱳ
وَعَلَانِيَةٗﱴ
وَيَدۡرَءُونَﱵ
بِٱلۡحَسَنَةِﱶ
ٱلسَّيِّئَةَﱷ
أُوْلَٰٓئِكَﱸ
لَهُمۡﱹ
عُقۡبَىﱺ
ٱلدَّارِﱻ
٢٢ﱼ
Dan orang-orang yang sabar kerana mengharapkan keredaan Tuhan mereka semata-mata, dan mendirikan sembahyang, serta mendermakan dari apa yang Kami kurniakan kepada mereka, secara bersembunyi atau secara terbuka; dan mereka pula menolak kejahatan dengan cara yang baik; mereka itu semuanya adalah disediakan baginya balasan yang sebaik-baiknya pada hari akhirat; -
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 13:20 hingga 13:24

انسان کو خدا نے پیدا کیا ۔ اس نے اس کو رہنے کے لیے بہترین دنیادی۔ وہ ہر آن اس کی پرورش کررہا ہے۔ یہ واقعہ انسان کو اپنے خالق ومالک کے ساتھ ایک فطری عہد میں باندھ دیتا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ انسان سرکش نہ بنے بلکہ حقیقت واقعہ کا اعتراف کرتے ہوئے خدا کے آگے جھک جائے۔

دنیا میں انسان کی زندگی مختلف قسم کے تعلقات وروابط کے درمیان ہے۔ انسان کی عبدیت کا تقاضا ہے کہ وہ اسی سے جڑے جس سے جڑنا خدا کو پسند ہے اور اس سے کٹ جائے جس سے کٹنے کا حکم دیاگیا ہے۔ اس پر خدا کی عظمت کا احساس اتنی شدّت سے طاری ہو کہ وہ اس کے آگے جھک جائے، جس کی ایک مقرر صورت کا نام نماز ہے۔ وہ اپنے اثاثہ میں سے دوسروں کو اسی طرح دے جس طرح خدا نے اپنے اثاثہ میں سے اس کو دیا ہے۔ اس کو کسی کی طرف سے برے سلوک کا تجربہ ہو تو وہ اچھے سلوک کے ساتھ اس کا جواب دے۔ کیوں کہ وہ خود بھی یہ چاہتا ہے کہ آخرت میں خدا اس کی برائیوں کو نظر انداز کردے اور اس کے ساتھ فضل ورحمت کا معاملہ فرمائے۔

یہ سب کچھ مسلسل صبر کا طالب ہے۔ نفس کے محرکات کے مقابلہ میں صبر۔ مفادات کے ضیاع کے مقابلہ میں صبر۔ ماحول کے دباؤ کے مقابلہ میں صبر۔ مگر مومن کو جنت کی خاطر ان تمام چیزوں پر صبر کرنا ہے۔ صبر ہی جنت کی قیمت ہے۔ صبر کی قیمت ادا كيے بغیر کسی کو خدا کی ابدی جنت نہیں مل سکتی۔