Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Ar-Ra'd 13:19

13:19
۞ افمن يعلم انما انزل اليك من ربك الحق كمن هو اعمى انما يتذكر اولو الالباب ١٩
۞ أَفَمَن يَعْلَمُ أَنَّمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ٱلْحَقُّ كَمَنْ هُوَ أَعْمَىٰٓ ۚ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَـٰبِ ١٩
۞ أَفَمَن
يَعۡلَمُ
أَنَّمَآ
أُنزِلَ
إِلَيۡكَ
مِن
رَّبِّكَ
ٱلۡحَقُّ
كَمَنۡ
هُوَ
أَعۡمَىٰٓۚ
إِنَّمَا
يَتَذَكَّرُ
أُوْلُواْ
ٱلۡأَلۡبَٰبِ
١٩
Maka adakah orang yang mengetahui bahawa Al-Quran yang diturunkan kepadamu dari Tuhanmu itu (wahai Muhammad) perkara yang benar, sama dengan orang yang buta matahatinya? Sesungguhnya orang-orang yang mahu memikirkan hal itu hanyalah orang-orang yang berakal sempurna.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
ایک موازنہ ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ ” ایک وہ شخص جو اللہ کے کلام کو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب اترا سراسر حق مانا ہو، سب پر ایمان رکھتا ہو، ایک کو دوسرے کی تصدیق کرنے والا اور موافقت کرنے والا جانا ہو، سب خبروں کو سچ جانتا ہو، سب حکموں کو مانتا ہو، سب برائیوں کو جانتا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کا قائل ہو “۔

اور آیت میں ہے «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا» [6-الأنعام:115] ‏ ” اور تمہارے پروردگار کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہیں “۔

” اور دوسرا وہ شخص جو نابینا ہو، بھلائی کو سمجھتا ہی نہیں اور اگر سمجھ بھی لے تو مانتا نہ ہو، نہ سچا جانتا ہو، یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے “۔

جیسے فرمان ہے کہ «لَا يَسْتَوِي أَصْحَابُ النَّارِ وَأَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَائِزُونَ» [59-الحشر:20] ‏ ” دوزخی اور جنتی برابر نہیں، جنتی خوش نصیب ہیں “، یہی فرمان یہاں ہے کہ ” یہ دونوں برابر نہیں “۔ بات یہ ہے کہ بھلی سمجھ سمجھداروں کی ہی ہوتی ہے۔

صفحہ نمبر4145