Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: An-Nur 24:47

24:47
ويقولون امنا بالله وبالرسول واطعنا ثم يتولى فريق منهم من بعد ذالك وما اولايك بالمومنين ٤٧
وَيَقُولُونَ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَبِٱلرَّسُولِ وَأَطَعْنَا ثُمَّ يَتَوَلَّىٰ فَرِيقٌۭ مِّنْهُم مِّنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ ۚ وَمَآ أُو۟لَـٰٓئِكَ بِٱلْمُؤْمِنِينَ ٤٧
وَيَقُولُونَ
ءَامَنَّا
بِٱللَّهِ
وَبِٱلرَّسُولِ
وَأَطَعۡنَا
ثُمَّ
يَتَوَلَّىٰ
فَرِيقٞ
مِّنۡهُم
مِّنۢ
بَعۡدِ
ذَٰلِكَۚ
وَمَآ
أُوْلَٰٓئِكَ
بِٱلۡمُؤۡمِنِينَ
٤٧
Dan (di antara orang-orang yang tidak dikehendakiNya ke jalan yang lurus ialah) mereka yang berkata: "Kami beriman kepada Allah dan kepada RasulNya serta kami taat"; kemudian sepuak dari mereka berpaling (membelakangkan perintah Allah dan Rasul) sesudah pengakuan itu, dan (kerana berpalingnya) tidaklah mereka itu menjadi orang-orang yang sebenarnya beriman.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 24:47 hingga 24:48
منافق کی زبان اور ، دل ٭٭

منافقوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ ” زبان تو ایمان واطاعت کا اقرار کرتے ہیں لیکن دل سے اس کے خلاف ہیں، عمل کچھ ہے قول کچھ ہے، اس لیے کہ دراصل ایماندار نہیں “۔

حدیث میں ہے کہ جو شخص بادشاہ کے سامنے بلوایا جائے اور وہ نہ جائے وہ ظالم ہے اور ناحق پر ہے ۔ جب انہیں ہدایت کی طرف بلایا جاتا ہے، قرآن و حدیث کے ماننے کو کہا جاتا ہے تو یہ منہ پھیر لیتے ہیں اور تکبر کرنے لگتے ہیں۔

جیسے آیت «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُوا بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَن يَكْفُرُوا بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلَالًا بَعِيدًا وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلَىٰ مَا أَنزَلَ اللَّـهُ وَإِلَى الرَّسُولِ رَأَيْتَ الْمُنَافِقِينَ يَصُدُّونَ عَنكَ صُدُودًا» [4-النساء:60،61] ‏ تک کی آیتوں میں بیان گزر چکا ہے۔ ہاں اگر انہیں شرعی فیصلے میں اپنا نفع نظر آتا ہو تو لمبے لمبے کلمے پڑھتے ہوئے، گردن ہلاتے ہوئے ہنسی خوش چلے آئیں گے اور جب معلوم ہو جائے کہ شرعی فیصلہ ان کی طبعی خواہش کے خلاف ہے، دنیوں مفاد کے خلاف ہے تو حق کی طرف مڑ کر دیکھیں گے بھی نہیں۔ پس ایسے لوگ پکے کافر ہیں۔ اس لیے کہ تین حال سے خالی نہیں یا تو یہ کہ ان کے دلوں میں ہی بے ایمانی گھر کرگئی ہے یا انہیں اللہ کے دین کی حقانیت میں شکوک ہیں یاخوف ہے کہ کہیں اللہ اور رسول ان کا حق نہ مارلیں، ان پر ظلم وستم کریں گے اور یہ تینوں صورتیں کفر کی ہیں۔ اللہ ان میں سے ہر ایک کو جانتا ہے جو جیسا باطن میں ہے اس کے پاس وہ ظاہر ہے۔

صفحہ نمبر5961

دراصل یہی لوگ جابر ہیں، ظالم ہیں، اللہ اور رسول اللہ اس سے پاک ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایسے کافر جو ظاہر میں مسلمان تھے، بہت سے تھے، انہیں جب اپنا مطلب قرآن و حدیث میں نکلتا نظر آتا تو خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنے جھگڑے پیش کرتے اور جب انہیں دوسروں سے مطلب براری نظر آتی تو سرکار محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں آنے سے صاف انکار کر جاتے۔

پس یہ آیت اتری اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جن دو شخصوں میں کوئی جھگڑا ہو اور وہ اسلامی حکم کے مطابق فیصلے کی طرف بلایا جائے اور وہ اس سے انکار کرے وہ ظالم ہے اور ناحق پر ہے ۔ [طبرانی کبیر:6939:ضعیف] ‏ یہ حدیث غریب ہے۔

صفحہ نمبر5962