Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: An-Nur 24:41

24:41
الم تر ان الله يسبح له من في السماوات والارض والطير صافات كل قد علم صلاته وتسبيحه والله عليم بما يفعلون ٤١
أَلَمْ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ يُسَبِّحُ لَهُۥ مَن فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَٱلطَّيْرُ صَـٰٓفَّـٰتٍۢ ۖ كُلٌّۭ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهُۥ وَتَسْبِيحَهُۥ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِمَا يَفْعَلُونَ ٤١
أَلَمۡ
تَرَ
أَنَّ
ٱللَّهَ
يُسَبِّحُ
لَهُۥ
مَن
فِي
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَٱلۡأَرۡضِ
وَٱلطَّيۡرُ
صَٰٓفَّٰتٖۖ
كُلّٞ
قَدۡ
عَلِمَ
صَلَاتَهُۥ
وَتَسۡبِيحَهُۥۗ
وَٱللَّهُ
عَلِيمُۢ
بِمَا
يَفۡعَلُونَ
٤١
Tidakkah engkau mengetahui bahawasanya Allah (Yang Maha Esa dan Maha Kuasa) sentiasa bertasbih kepadaNya sekalian makhluk yang ada di langit dan di bumi serta burung-burung yang terbang berbaris di angkasa? Masing-masing sedia mengetahui (menurut keadaan semulajadinya) akan cara mengerjakan ibadatnya kepada Allah dan memujiNya; dan Allah Maha Mengetahui akan apa yang mereka lakukan.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 24:41 hingga 24:42
ہر ایک تسبیح خوان ہے ٭٭

کل کے کل انسان، جنات، فرشتے اور حیوان یہاں تک کہ جمادات بھی اللہ کی تسبیح کے بیان میں مشغول ہیں۔ ایک اور جگہ ہے کہ «تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَنْ فِيهِنَّ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا» [17-الإسراء:44] ‏ ” ساتوں آسمان اور سب زمینیں اور ان میں جو ہیں سب اللہ کی پاکیزگی کی بیان میں مشغول ہیں “۔

اپنے پروں سے اڑنے والے پرند بھی اپنے رب کی عبادت اور پاکیزگی کے بیان میں مشغول ہیں۔ ان سب کو جو جو تسبیح لائق تھی اللہ نے انہیں سکھا دی ہے، سب کو اپنی عبادت کے مختلف جداگانہ طریقے سکھا دئے ہیں اور اللہ پر کوئی کام مخفی نہیں، وہ عالم کل ہے۔ حاکم، متصرف، مالک، مختار کل، معبود حقیقی، آسمان و زمین کا بادشاہ صرف وہی ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اس کے حکموں کو کوئی ٹالنے والا نہیں۔ قیامت کے دن سب کو اسی کے سامنے حاضر ہونا ہے، وہ جو چاہے گا اپنی مخلوقات میں حکم فرمائے گا۔ برے لوگ برا بدلہ پائیں گے۔ نیک نیکیوں کا پھل حاصل کریں گے۔ خالق مالک وہی ہے، دنیا اور آخرت کا حاکم حقیقی وہی ہے اور اسی کی ذات لائق حمد و ثنا ہے۔

صفحہ نمبر5955