Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: An-Nisaa' 4:104

4:104
ولا تهنوا في ابتغاء القوم ان تكونوا تالمون فانهم يالمون كما تالمون وترجون من الله ما لا يرجون وكان الله عليما حكيما ١٠٤
وَلَا تَهِنُوا۟ فِى ٱبْتِغَآءِ ٱلْقَوْمِ ۖ إِن تَكُونُوا۟ تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ ۖ وَتَرْجُونَ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا يَرْجُونَ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا ١٠٤
وَلَا
تَهِنُواْ
فِي
ٱبۡتِغَآءِ
ٱلۡقَوۡمِۖ
إِن
تَكُونُواْ
تَأۡلَمُونَ
فَإِنَّهُمۡ
يَأۡلَمُونَ
كَمَا
تَأۡلَمُونَۖ
وَتَرۡجُونَ
مِنَ
ٱللَّهِ
مَا
لَا
يَرۡجُونَۗ
وَكَانَ
ٱللَّهُ
عَلِيمًا
حَكِيمًا
١٠٤
Dan janganlah kamu lemah (hilang semangat) dalam memburu musuh (yang menceroboh) itu; kerana kalau kamu menderita sakit (luka atau mati) maka sesungguhnya mereka pun menderita sakitnya seperti penderitaan kamu; sedang kamu mengharapkan dari Allah apa yang mereka tidak harapkan (iaitu balasan yang baik pada hari akhirat kelak). Dan (ingatlah) Allah Maha Mengetahui, lagi Maha Bijaksana.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 4:103 hingga 4:104
صلوٰۃ خوف کے بعد کثرت ذکر ٭٭

اللہ تعالیٰ اس آیت میں حکم دیتا ہے کہ نماز خوف کے بعد اللہ کا ذکر بکثرت کیا کرو، گو ذکر اللہ کا حکم اور اس کی ترغیب وتاکید اور نمازوں کے بعد بلکہ ہر وقت ہی ہے، لیکن یہاں خصوصیت سے اس لیے بیان فرمایا کہ یہاں بہت بڑی رخصت عنایت فرمائی ہے نماز میں تخفیف کر دی، پھر حالت نماز میں اِدھر اُدھر ہٹنا جانا اور آنا مصلحت کے مطابق جائز رکھا، جیسے حرمت والے مہینوں کے متعلق فرمایا «فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ» [9-التوبة:36] ‏ ” ان میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو “ جب کہ اور اوقات میں بھی ظلم ممنوع ہے لیکن ان کے مہینوں میں اس سے بچاؤ کی مزید تاکید کی ہے۔

تو فرمان ہوتا ہے کہ اپنی ہر حالت میں اللہ عزوجل کا ذکر کرتے رہو، اور جب اطمینان حاصل ہو جائے ڈر خوف نہ رہے تو باقاعدہ خشوع خضوع سے ارکان نماز کو پابندی کے مطابق شرع بجا لاؤ، نماز پڑھنا وقت مقررہ پر منجانب اللہ فرض عین ہے، جس طرح حج کا وقت معین ہے اسی طرح نماز کا وقت بھی مقرر ہے، ایک وقت کے بعد دوسرا پھر دوسرے کے بعد تیسرا۔ پھر فرماتا ہے دشمنوں کی تلاش میں کم ہمتی نہ کرو چستی اور چالاکی سے گھات کی جگہ بیٹھ کر ان کی خبر لو، اگر قتل و زخم ونقصان تمہیں پہنچتا ہے تو کیا انہیں نہیں پہنچتا؟ اسی مضمون کو ان الفاظ میں بھی ادا کیا گیا ہے «‏إِن يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهُ» [3-آل عمران:140] ‏

پس مصیبت اور تکلیف کے پہنچنے میں تم اور وہ برابر ہیں، لیکن بہت بڑا فرق یہ ہے کہ تمہیں ذات عزاسمہ سے وہ اُمیدیں اور وہ آسرے ہیں جو انہیں نہیں، تمہیں اجر و ثواب بھی ملے گا تمہاری نصرت و تائید بھی ہو گی، جیسے کہ خود باری تعالیٰ نے خبر دی ہے اور وعدہ کیا، نہ اس کی خبر جھوٹی نہ اس کے وعدے ٹلنے والے۔ پس تمہیں بہ نسبت ان کے بہت تگ و دو چاہیئے تمہارے دلوں میں جہاد کا ولولہ ہونا چاہیئے، تمہیں اس کی رغبت کامل ہونی چاہیئے، تمہارے دلوں میں اللہ کے کلمے کو مستحکم کرنے توانا کرنے پھیلانے اور بلند کرنے کی تڑپ ہر وقت موجود رہنی چاہیئے اللہ تعالیٰ جو کچھ مقرر کرتا ہے جو فیصلہ کرتا ہے جو جاری کرتا ہے جو شرع مقرر کرتا ہے جو کام کرتا ہے سب میں پوری خبر کا مالک صحیح اور سچے علم والا ساتھ ہی حکمت والا بھی ہے، ہر حال میں ہر وقت سزاوار تعریف و حمد وہی ہے۔

صفحہ نمبر1922