Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: An-Naml 27:68

27:68
لقد وعدنا هاذا نحن واباونا من قبل ان هاذا الا اساطير الاولين ٦٨
لَقَدْ وُعِدْنَا هَـٰذَا نَحْنُ وَءَابَآؤُنَا مِن قَبْلُ إِنْ هَـٰذَآ إِلَّآ أَسَـٰطِيرُ ٱلْأَوَّلِينَ ٦٨
لَقَدۡ
وُعِدۡنَا
هَٰذَا
نَحۡنُ
وَءَابَآؤُنَا
مِن
قَبۡلُ
إِنۡ
هَٰذَآ
إِلَّآ
أَسَٰطِيرُ
ٱلۡأَوَّلِينَ
٦٨
"Demi sesungguhnya, kami telah dijanjikan dengan perkara ini, kami dan juga datuk nenek kami dahulu; ini hanyalah cerita-cerita dongeng orang-orang dahulu kala".
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

لقد وعدنا ۔۔۔۔۔۔ اساطیر الاولین (27: 67)

یہ لوگ جانتے تھے کہ ان سے پہلے بھی ، رسولوں نے ان کے آبا کو اسی طرح قیامت سے ڈرایا ہے اور حساب و کتاب اور حشر و نشر کی بات کی ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عربوں کے لیے عقیدہ آخرت بالکل ایک نیا عقیدہ نہ تھا۔ یہ نہ تھا کہ وہ بعث بعد الموت کے معنی ہی نہ سمجھتے ہوں بلکہ ان کا اعتراض یہ تھا کہ صدیوں سے یہ وعدے کیے جا رہے ہیں ان کا تحقق نہیں ہوا۔ چناچہ اس بنا پر وہ اس عقیدے کا مذاق اڑاتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ یہ پرانے لوگوں کی کہانیاں ہیں اور حضرت محمد ﷺ ان کو نقل کرتے چلے آرہے ہیں۔ یہ لوگ اس بات سے غافل تھے کہ قیام قیامت کے لیے تو ایک وقت مقرر ہے۔ وہ نہ کسی کی جلد بازی سے جلدی آسکتا ہے اور نہ کسی کی غفلت کی وجہ سے موخر ہو سکتا ہے۔ یہ تو ایک معلوم اور مقرر وقت پر ہوگا اور اس کا علم زمین و آسمان دونوں کی مخلوقات سے خفیہ رکھا گیا ہے۔ حضرت محمد ﷺ نے جبرئیل (علیہ السلام) سے یہی کہا ، جب انہوں نے آپ ﷺ سے قیامت کے بارے میں پوچھا۔

ما المسؤل عنھا باعلم من السائل ” اس کے بارے میں پوچھے جانے والا پوچھنے والے سے زیادہ علم نہیں رکھتا “

یہاں ان لوگوں کو ان لوگوں کی قتل گاہوں کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے ، جو ان سے قبل ہلاک کیے گئے ، جنہوں نے سچائی کا انکار کیا اور قرآن میں یہاں ان کو مجرمین سے تعبیر کیا گیا ہے۔