Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: An-Naml 27:42

27:42
فلما جاءت قيل اهاكذا عرشك قالت كانه هو واوتينا العلم من قبلها وكنا مسلمين ٤٢
فَلَمَّا جَآءَتْ قِيلَ أَهَـٰكَذَا عَرْشُكِ ۖ قَالَتْ كَأَنَّهُۥ هُوَ ۚ وَأُوتِينَا ٱلْعِلْمَ مِن قَبْلِهَا وَكُنَّا مُسْلِمِينَ ٤٢
فَلَمَّا
جَآءَتۡ
قِيلَ
أَهَٰكَذَا
عَرۡشُكِۖ
قَالَتۡ
كَأَنَّهُۥ
هُوَۚ
وَأُوتِينَا
ٱلۡعِلۡمَ
مِن
قَبۡلِهَا
وَكُنَّا
مُسۡلِمِينَ
٤٢
Maka ketika ia datang mengadap, Nabi Sulaiman bertanya kepadanya: Serupa inikah singahsanamu?" Ia menjawab: "Boleh jadi inilah dia; dan kami telah diberikan ilmu pengetahuan sebelum berlakunya (mukjizat) ini, dan kami pula adalah tetap berserah diri (menjunjung perintah Allah)".
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

فلما جآءت قیل اھکذا عرشک قالت کانہ ھو

یہ اس لئے ایک انوکھی اور غیر متوقع بات تھی۔ اس کی مملکت کہاں اور تخت کہاں اور وہ دیکھ رہی ہے۔ آخر محفوظ مقامات کے اندر زیر حراست تخت یہاں کس طرح آگیا ۔ جنوب یمن اور بیت المقدس کا فاصلہ یہ کیسے آگیا اور کون اسے لایا ہے۔

لیکن تھوڑی سی تبدیلی کے باوجود تخت تو اسی کا ہے لیکن وہ غیر متوقع ہونے ، حالاتی شہادت خلاف ہونے کی وجہ سے اور زیادہ تر علامات اصلی باقی رہنے کی وجہ سے وہ یوں کہتی ہے کہ ” گویا یہ وہی ہے۔ “ اس نے نہایت فراست اور عقلمندی سے یہ جواب دیا۔ جس میں نہ اس تخت کا اقرار ہے اور نہ انکار ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان غیر متوقع حالات میں بھی دھوکہ نہیں کھاتی اور اعلیٰ درجے کی سفارتی زبان استعمال کرتی ہے۔

اب یہاں سیاق کلام میں ایک خلا ہے۔ گویا اسے حضرت سلیمان نے اطلاع کردی کہ یہ قوت ہے جس کے ذریعے ہم تمہارا تخت تم سے بھی پہلے لے آئے۔ تو اس کا جواب وہ دیتی ہے کہ ہم نے خود اپنے ہاں حالات کا جائزہ لے لیا تھا اور یہ عزم کرلیا تھا کہ ہم سلیمان کی اطاعت قبول کریں گے جب ہمارے ہدایا رد کردیئے گئے تھے۔

واو تینا العلم من قبلھا وکنا مسلمین (24)

اب قرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ ملک سبا اپنی اس دانشمندی کے باوجود پھر حضرت سلیمان کے پہلے خط پر ایمان کیوں نہیں لائی۔ یہ اس لئے کہ یہ ایک کافر سوسائٹی میں پیدا ہوئی تھی۔ لہٰذا وہ بھی عام رواج کے مطابق اللہ کی بندگی کے بجائے سورج کی بندگی کرتی رہی۔ جیسا کہ ہد ہد کی رپورٹ سے ظاہر ہے۔