Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Bayan ul Quran Tafsir: An-Naml Ayah 3

27:3
الذين يقيمون الصلاة ويوتون الزكاة وهم بالاخرة هم يوقنون ٣
ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَهُم بِٱلْـَٔاخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ ٣
ٱلَّذِينَﱍ
يُقِيمُونَﱎ
ٱلصَّلَوٰةَﱏ
وَيُؤۡتُونَﱐ
ٱلزَّكَوٰةَﱑ
وَهُمﱒ
بِٱلۡأٓخِرَةِﱓ
هُمۡﱔ
يُوقِنُونَﱕ
٣ﱖ
Iaitu mereka yang tetap mendirikan sembahyang dan memberi zakat, sedang mereka pula percaya dengan yakin akan hari akhirat.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

آیت 3 الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَہُمْ بالْاٰخِرَۃِ ہُمْ یُوْقِنُوْنَ ”یعنی آخرت پر ان کا پورا یقین ہے۔ سورة البقرۃ کے آغاز میں بھی متقین کی صفات کے ضمن میں عقیدۂ آخرت پر ایمان کے لیے لفظ ”یُوْقِنُوْنَ“ ہی استعمال ہوا ہے۔ دراصل انسان کے عمل اور کردار کے اچھے یا برے ہونے کا تعلق براہ راست عقیدۂ آخرت کے ساتھ ہے۔ آخرت پر اگر یقین کامل نہیں ہے تو انسان کا عمل اور کردار بھی درست نہیں ہوسکتا۔