Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tazkir ul Quran Tafsir: An-Najm Ayah 31

53:31
ولله ما في السماوات وما في الارض ليجزي الذين اساءوا بما عملوا ويجزي الذين احسنوا بالحسنى ٣١
وَلِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ لِيَجْزِىَ ٱلَّذِينَ أَسَـٰٓـُٔوا۟ بِمَا عَمِلُوا۟ وَيَجْزِىَ ٱلَّذِينَ أَحْسَنُوا۟ بِٱلْحُسْنَى ٣١
وَلِلَّهِﱼ
مَاﱽ
فِيﱾ
ٱلسَّمَٰوَٰتِﱿ
وَمَاﲀ
فِيﲁ
ٱلۡأَرۡضِﲂ
لِيَجۡزِيَﲃ
ٱلَّذِينَﲄ
أَسَٰٓـُٔواْﲅ
بِمَاﲆ
عَمِلُواْﲇ
وَيَجۡزِيَﲈ
ٱلَّذِينَﲉ
أَحۡسَنُواْﲊ
بِٱلۡحُسۡنَىﲋ
٣١ﲌ
Dan Allah jualah yang memiliki segala yang ada di langit dan yang ada di bumi; (diciptakan semuanya itu) untuk membalas orang-orang yang berbuat jahat menurut apa yang mereka lakukan, dan membalas orang-orang yang berbuat baik dengan balasan yang sebaik-baiknya.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 53:31 hingga 53:32

کائنات اپنے حد درجہ محکم نظام کے ساتھ بتا رہی ہے کہ اس کا خالق و مالک بے حد طاقت ور ہے۔ یہی واقعہ یہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ وہ انسان کو پکڑے گا اور جب وہ انسان کو پکڑے گا تو کسی بھی شخص کے لیے اس کی پکڑ سے بچنا ممکن نہ ہوگا۔

انسان کو بشری کمزوریوں کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔ اس لیے انسان سے فرشتوں جیسی پاکیزگی کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پوری طرح بتا دیا ہے کہ اس کو کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے۔ تاہم انسان کے لیے ’’لَمَمَ‘‘ کی معافی ہے۔ یعنی وقتی جذبہ کے تحت کسی برائی میں پڑجانا، بشرطیکہ آدمی فوراً بعد ہی اس کو محسوس کرے اور شرمندہ ہو کر اپنے رب سے معافی مانگے۔