Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tazkir ul Quran Tafsir: An-Najm Ayah 30

53:30
ذالك مبلغهم من العلم ان ربك هو اعلم بمن ضل عن سبيله وهو اعلم بمن اهتدى ٣٠
ذَٰلِكَ مَبْلَغُهُم مِّنَ ٱلْعِلْمِ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِۦ وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ ٱهْتَدَىٰ ٣٠
ذَٰلِكَﱪ
مَبۡلَغُهُمﱫ
مِّنَﱬ
ٱلۡعِلۡمِۚﱭﱮ
إِنَّﱯ
رَبَّكَﱰ
هُوَﱱ
أَعۡلَمُﱲ
بِمَنﱳ
ضَلَّﱴ
عَنﱵ
سَبِيلِهِۦﱶ
وَهُوَﱷ
أَعۡلَمُﱸ
بِمَنِﱹ
ٱهۡتَدَىٰﱺ
٣٠ﱻ
(Kepentingan dunia) itulah sahaja tujuan terakhir dari pengetahuan yang dicapai oleh mereka. Sesungguhnya Tuhanmu, Dia lah jua yang lebih mengetahui akan orang yang sesat dari jalanNya, dan Dia lah jua yang lebih mengetahui akan orang yang mendapat hidayah petunjuk.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 53:26 hingga 53:30

پتھر کے بت بنا کر ان کو پوجنا، فرشتوں کو خدا کی بیٹی بتانا، سفارشوں کی بنیاد پر جنت کی امید رکھنا یہ سب غیر سنجیدہ عقیدے ہیں۔ اور غیر سنجیدہ عقیدے ہمیشہ اس ذہن میں پیدا ہوتے ہیں جو پکڑ کا خوف نہ رکھتا ہو۔ خوف لا یعنی کلام کا قاتل ہے۔ اور جو شخص بے خوف ہو اس کا دماغ لا یعنی کلام کا کارخانہ بن جائے گا۔

جو لوگ بے خوفی کی نفسیات میں مبتلا ہوں، ان سے بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایسے لوگ دلیل اور معقولیت پر دھیان نہیں ديتے، اس لیے وہ امر حق کو ماننے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے۔ ان سے مقابلہ کرنے کی ایک ہی ممکن تدبیر ہے۔ وہ یہ کہ ان سے اعراض کیا جائے۔ تاہم اللہ تعالیٰ ہر شخص کی اندرونی حالت کو جانتا ہے اور وہ اس کے مطابق ہر شخص سے معاملہ فرمائے گا۔