Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tazkir ul Quran Tafsir: An-Najm Ayah 26

53:26
۞ وكم من ملك في السماوات لا تغني شفاعتهم شييا الا من بعد ان ياذن الله لمن يشاء ويرضى ٢٦
۞ وَكَم مِّن مَّلَكٍۢ فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ لَا تُغْنِى شَفَـٰعَتُهُمْ شَيْـًٔا إِلَّا مِنۢ بَعْدِ أَن يَأْذَنَ ٱللَّهُ لِمَن يَشَآءُ وَيَرْضَىٰٓ ٢٦
۞ وَكَمﳔﳕ
مِّنﳖ
مَّلَكٖﳗ
فِيﳘ
ٱلسَّمَٰوَٰتِﳙ
لَاﳚ
تُغۡنِيﳛ
شَفَٰعَتُهُمۡﳜ
شَيۡـًٔاﳝ
إِلَّاﳞ
مِنۢﳟ
بَعۡدِﳠ
أَنﳡ
يَأۡذَنَﳢ
ٱللَّهُﳣ
لِمَنﳤ
يَشَآءُﳥ
وَيَرۡضَىٰٓﳦ
٢٦ﳧ
(Golongan yang musyrik mengharapkan pertolongan benda-benda yang mereka sembah itu) padahal berapa banyak malaikat di langit, syafaat mereka tidak dapat mendatangkan sebarang faedah, kecuali sesudah Allah mengizinkan bagi sesiapa yang dikehendakiNya dan diredhaiNya.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 53:26 hingga 53:30

پتھر کے بت بنا کر ان کو پوجنا، فرشتوں کو خدا کی بیٹی بتانا، سفارشوں کی بنیاد پر جنت کی امید رکھنا یہ سب غیر سنجیدہ عقیدے ہیں۔ اور غیر سنجیدہ عقیدے ہمیشہ اس ذہن میں پیدا ہوتے ہیں جو پکڑ کا خوف نہ رکھتا ہو۔ خوف لا یعنی کلام کا قاتل ہے۔ اور جو شخص بے خوف ہو اس کا دماغ لا یعنی کلام کا کارخانہ بن جائے گا۔

جو لوگ بے خوفی کی نفسیات میں مبتلا ہوں، ان سے بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایسے لوگ دلیل اور معقولیت پر دھیان نہیں ديتے، اس لیے وہ امر حق کو ماننے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے۔ ان سے مقابلہ کرنے کی ایک ہی ممکن تدبیر ہے۔ وہ یہ کہ ان سے اعراض کیا جائے۔ تاہم اللہ تعالیٰ ہر شخص کی اندرونی حالت کو جانتا ہے اور وہ اس کے مطابق ہر شخص سے معاملہ فرمائے گا۔