Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: An-Nahl 16:88

16:88
الذين كفروا وصدوا عن سبيل الله زدناهم عذابا فوق العذاب بما كانوا يفسدون ٨٨
ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَصَدُّوا۟ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ زِدْنَـٰهُمْ عَذَابًۭا فَوْقَ ٱلْعَذَابِ بِمَا كَانُوا۟ يُفْسِدُونَ ٨٨
ٱلَّذِينَ
كَفَرُواْ
وَصَدُّواْ
عَن
سَبِيلِ
ٱللَّهِ
زِدۡنَٰهُمۡ
عَذَابٗا
فَوۡقَ
ٱلۡعَذَابِ
بِمَا
كَانُواْ
يُفۡسِدُونَ
٨٨
Orang-orang yang kafir dan menghalangi (dirinya serta orang lain) dari jalan Allah, Kami tambahi mereka azab seksa di samping azab (yang menimpa mereka), disebabkan mereka membuat kerosakan.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 16:87 hingga 16:88
باب

اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں کلام اللہ میں موجود ہیں۔ اس دن سب کے سب مسلمان تابع فرمان ہو جائیں گے جیسے فرمان ہے آیت «اَسْمِعْ بِهِمْ وَاَبْصِرْ يَوْمَ يَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْيَوْمَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ» [19-مريم:38] ‏ یعنی ” جس دن یہ ہمارے پاس آئیں گے، اس دن خوب ہی سننے والے، دیکھنے والے ہو جائیں گے “۔

اور آیت میں ہے «وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ» [32-السجدة:12] ‏ ” تو دیکھے گا کہ اس دن گنہگار لوگ اپنے سر جھکائے کہہ رہے ہوں گے کہ اے اللہ ہم نے دیکھ سن لیا “، الخ۔

اور آیت میں ہے کہ «وَعَنَتِ الْوُجُوهُ لِلْحَيِّ الْقَيُّومِ» [20-طہ:111] ‏ ” سب چہرے اس دن اللہ حی و قیوم کے سامنے جھکے ہوئے ہوں گے، تابع اور مطیع ہوں گے، زیر فرمان ہوں گے “۔ ان کے سارے بہتان و افترا جاتے رہیں گے۔ ساری چالاکیاں ختم ہو جائیں گی کوئی ناصر و مددگار کھڑا نہ ہو گا۔ جنہوں نے کفر کیا، انہیں ان کے کفر کی سزا ملے گی، «وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْأَوْنَ عَنْهُ» [6-الأنعام:26] ‏ ” اور دوسروں کو بھی حق سے دور بھگاتے رہتے تھے “ «وَإِن يُهْلِكُونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ» [6-الأنعام:26] ‏ ” دراصل وہ خود ہی ہلاکت کے دلدل میں پھنس رہے تھے لیکن بیوقوف تھے “۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کافروں کے عذاب کے بھی درجے ہوں گے، جس طرح مومنوں کے جزا کے درجے ہوں گے۔ جیسے فرمان الٰہی ہے آیت «قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ» [7-الأعراف:38] ‏ ” ہر ایک کے لیے دوہرا اجر ہے لیکن تمہیں علم نہیں “۔

ابو یعلیٰ میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”عذاب جہنم کے ساتھ ہی زہریلے سانپوں کا ڈسنا بڑھ جائے گا جو اتنے بڑے بڑے ہوں گے جتنے بڑے کھجور کے درخت ہوتے ہیں۔‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”عرش تلے سے پانچ نہریں آتی ہیں جن سے دوزخیوں کو دن رات عذاب ہوگا۔‏“

صفحہ نمبر4508