Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tazkir ul Quran Tafsir: Al-Qasas Ayah 9

28:9
وقالت امرات فرعون قرت عين لي ولك لا تقتلوه عسى ان ينفعنا او نتخذه ولدا وهم لا يشعرون ٩
وَقَالَتِ ٱمْرَأَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَيْنٍۢ لِّى وَلَكَ ۖ لَا تَقْتُلُوهُ عَسَىٰٓ أَن يَنفَعَنَآ أَوْ نَتَّخِذَهُۥ وَلَدًۭا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ٩
وَقَالَتِﱶ
ٱمۡرَأَتُﱷ
فِرۡعَوۡنَﱸ
قُرَّتُﱹ
عَيۡنٖﱺ
لِّيﱻ
وَلَكَۖﱼﱽ
لَاﱾ
تَقۡتُلُوهُﱿ
عَسَىٰٓﲀ
أَنﲁ
يَنفَعَنَآﲂ
أَوۡﲃ
نَتَّخِذَهُۥﲄ
وَلَدٗاﲅ
وَهُمۡﲆ
لَاﲇ
يَشۡعُرُونَﲈ
٩ﲉ
Dan (ketika melihat kanak-kanak itu) berkatalah isteri Firaun: "(Semoga ia menjadi) cahaya mata bagiku dan bagimu; janganlah kamu membunuhnya; mudah-mudahan ia berguna kepada kita, atau kita jadikan dia anak". Padahal mereka tidak menyedari (kesudahannya).
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 28:7 hingga 28:9

حضرت موسیٰ کی پیدائش کے زمانہ میں بنی اسرائیل کے لڑکے ہلاک کيے جارہے تھے۔ اس بنا پر حضرت موسیٰ کی والدہ پریشان ہوئیں۔ اس وقت غالباً خواب کے ذریعہ آپ کی والدہ کو یہ تدبیر بتائی گئی کہ وہ آپ کو ایک چھوٹی کشتی میںرکھ کردریائے نیل میں ڈال دیں۔ انھوں نے تین ماہ بعد ایسا ہی کیا۔ یہ چھوٹی کشتی بہتے ہوئے فرعون کے محل کے سامنے پہنچی۔ فرعون کی بیوی (آسیہ) ایک نیک بخت خاتون تھیں۔ان کو حضرت موسیٰ کے معصوم اور پرکشش حلیہ کو دیکھ کر رحم آگیا۔ چنانچہ ان کے مشورہ پر حضرت موسیٰ فرعون کے محل میں رکھ ليے گئے۔

روایات میںآتا ہے کہ فرعون کی بیوی نے کہا کہ یہ بچہ آنکھ کی ٹھنڈک ہے۔ فرعون نے جواب دیا کہ تمھارے ليے ہے، نہ کہ میرے ليے (لَکِ لا لِی)۔ یہ بات غالباً فرعون نے مرد اور عورت کے فرق پر کہی ہوگی مگر بعد کو وہ عین واقعہ بن گئی۔