Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Qasas 28:82

28:82
واصبح الذين تمنوا مكانه بالامس يقولون ويكان الله يبسط الرزق لمن يشاء من عباده ويقدر لولا ان من الله علينا لخسف بنا ويكانه لا يفلح الكافرون ٨٢
وَأَصْبَحَ ٱلَّذِينَ تَمَنَّوْا۟ مَكَانَهُۥ بِٱلْأَمْسِ يَقُولُونَ وَيْكَأَنَّ ٱللَّهَ يَبْسُطُ ٱلرِّزْقَ لِمَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ وَيَقْدِرُ ۖ لَوْلَآ أَن مَّنَّ ٱللَّهُ عَلَيْنَا لَخَسَفَ بِنَا ۖ وَيْكَأَنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلْكَـٰفِرُونَ ٨٢
وَأَصۡبَحَ
ٱلَّذِينَ
تَمَنَّوۡاْ
مَكَانَهُۥ
بِٱلۡأَمۡسِ
يَقُولُونَ
وَيۡكَأَنَّ
ٱللَّهَ
يَبۡسُطُ
ٱلرِّزۡقَ
لِمَن
يَشَآءُ
مِنۡ
عِبَادِهِۦ
وَيَقۡدِرُۖ
لَوۡلَآ
أَن
مَّنَّ
ٱللَّهُ
عَلَيۡنَا
لَخَسَفَ
بِنَاۖ
وَيۡكَأَنَّهُۥ
لَا
يُفۡلِحُ
ٱلۡكَٰفِرُونَ
٨٢
Dan orang-orang yang pada masa dahulu bercita-cita mendapat kekayaan seperti Qarun - mulai sedar sambil berkata: "Wah! Sesungguhnya Allah memewahkan rezeki bagi sesiapa yang dikehendakiNya dari hamba-hambaNya, dan Dia lah juga yang menyempitkannya kalau tidak kerana Allah memberi pertolongan kepada kita tentulah kita akan dibinasakan dengan tertimbus di dalam tanah (seperti Qarun). Aduhai! Sesungguhnya orang-orang yang kufurkan nikmat Allah itu tidak akan berjaya!"
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

واصبح الذین تمترا مکانہ ۔۔۔۔۔۔ لا یفلح الکفرون (82)

اب یہ لوگ اس بات پر اللہ کی حمد و ثنا کر رہے ہیں کہ اللہ نے ان کی دعا قبول نہ کی۔ اور ان کو وہ دولت نہ دی جس کی وہ تمنا کرتے تھے اور جو دولت قارون کو دی گئی وہ ان کو نہ دی گئی۔ ورنہ ان کی حالت بھی وہ ہوجاتی جو چوبیس گھنٹوں میں قارون کی ہوگئی۔ ان کو اب ہوش آیا کہ دولت اس بات کی علامت اور دلیل نہیں ہے کہ دولت مند پر اللہ کا فضل ہے اور اللہ اس سے راضی ہے بلکہ اللہ اپنے بندوں میں سے کسی کو کم رزق دیتا ہے اور کسی کو زیادہ دیتا ہے یہ اس لیے نہیں ہے کہ اللہ ان سے راضی ہے یا ناراض ہے۔ رزق کی فراہمی کے اسباب اور ہیں۔ اگر وافر رزق اللہ کی رضا مندی کی دلیل ہوتا تو قارون اللہ کی اس شدید گرفت اور پکڑ میں نہ آتا ایسے ضعیف الاعتقاد لوگوں کو اب معلوم ہوا کہ کافر کبھی فلاح نہیں پاتے۔ قارون کے بارے میں قرآن نے کلمہ کفر نقل نہیں کیا گیا۔ البتہ مال و دولت پر غرور کرنا اور یہ سوچ رکھنا کہ یہ دولت اس نے خود اپنے علم و حکمت کے زور سے کمائی ہے ، یہ بھی ایک قسم کا کفر ہے اور اس کا انجام ایس اہوا جو کافرون کا ہوتا ہے یعنی مکمل تباہی اور ہلاکت۔