Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Qasas 28:79

28:79
فخرج على قومه في زينته قال الذين يريدون الحياة الدنيا يا ليت لنا مثل ما اوتي قارون انه لذو حظ عظيم ٧٩
فَخَرَجَ عَلَىٰ قَوْمِهِۦ فِى زِينَتِهِۦ ۖ قَالَ ٱلَّذِينَ يُرِيدُونَ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا يَـٰلَيْتَ لَنَا مِثْلَ مَآ أُوتِىَ قَـٰرُونُ إِنَّهُۥ لَذُو حَظٍّ عَظِيمٍۢ ٧٩
فَخَرَجَ
عَلَىٰ
قَوۡمِهِۦ
فِي
زِينَتِهِۦۖ
قَالَ
ٱلَّذِينَ
يُرِيدُونَ
ٱلۡحَيَوٰةَ
ٱلدُّنۡيَا
يَٰلَيۡتَ
لَنَا
مِثۡلَ
مَآ
أُوتِيَ
قَٰرُونُ
إِنَّهُۥ
لَذُو
حَظٍّ
عَظِيمٖ
٧٩
Kemudian Qarun keluar kepada kaumnya dengan memakai perhiasannya. (Pada saat itu) berkatalah orang-orang yang semata-mata inginkan kesenangan kehidupan dunia: "Alangkah baiknya kalau kita ada kekayaan seperti yang didapati oleh Qarun! Sesungguhnya dia adalah seorang yang bernasib baik".
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 28:79 hingga 28:80
سامان تعیش کی فروانی ٭٭

قارون ایک دن نہایت قیمتی پوشاک پہن کر زرق برق عمدہ سواری پرسوار ہو کر اپنے غلاموں کو آگے پیچھے بیش بہا پوشاکیں پہنائے ہوئے لے کر بڑے ٹھاٹھ سے اتراتا ہوا اکڑتا ہوا نکلا اس کا یہ ٹھاٹھ اور یہ زینت وتجمل دیکھ کر دنیا داروں کے منہ میں پانی بھر آیا اور کہنے لگے کاش کہ ہمارے پاس بھی اس جتنا مال ہوتا۔ یہ تو بڑا خوش نصیب ہے اور بڑی قسمت والا ہے۔

علماء کرام نے ان کی یہ بات سن کر انہیں اس خیال سے روکنا چاہا اور انہیں سمجھانے لگے کہ دیکھو اللہ نے جو کچھ اپنے مومن اور نیک بندوں کے لیے اپنے ہاں تیار کر رکھا ہے وہ اس سے کروڑہا درجہ بارونق دیرپا اور عمدہ ہے۔ تمہیں ان درجات کو حاصل کرنے کے لیے اس دو روزہ زندگی کو صبر وبرداشت سے گزارنا چاہیئے جنت صابروں کا حصہ ہے یہ مطلب بھی ہے کہ ایسے پاک کلمے صبر کرنے والوں کی زبان ہی سے نکلتے ہیں جو دنیا کی محبت سے دور اور دار آخرت کی محبت میں چور ہوتے ہیں اس صورت میں ممکن ہے کہ یہ کلام ان واعظوں کا نہ ہو بلکہ ان کے کام کی اور ان کی تعریف میں یہ جملہ اللہ کی طرف سے خبر ہو۔

صفحہ نمبر6638