Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Bayan ul Quran Tafsir: Al-Qasas Ayah 59

28:59
وما كان ربك مهلك القرى حتى يبعث في امها رسولا يتلو عليهم اياتنا وما كنا مهلكي القرى الا واهلها ظالمون ٥٩
وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ ٱلْقُرَىٰ حَتَّىٰ يَبْعَثَ فِىٓ أُمِّهَا رَسُولًۭا يَتْلُوا۟ عَلَيْهِمْ ءَايَـٰتِنَا ۚ وَمَا كُنَّا مُهْلِكِى ٱلْقُرَىٰٓ إِلَّا وَأَهْلُهَا ظَـٰلِمُونَ ٥٩
وَمَاﲽ
كَانَﲾ
رَبُّكَﲿ
مُهۡلِكَﳀ
ٱلۡقُرَىٰﳁ
حَتَّىٰﳂ
يَبۡعَثَﳃ
فِيٓﳄ
أُمِّهَاﳅ
رَسُولٗاﳆ
يَتۡلُواْﳇ
عَلَيۡهِمۡﳈ
ءَايَٰتِنَاۚﳉﳊ
وَمَاﳋ
كُنَّاﳌ
مُهۡلِكِيﳍ
ٱلۡقُرَىٰٓﳎ
إِلَّاﳏ
وَأَهۡلُهَاﳐ
ظَٰلِمُونَﳑ
٥٩ﳒ
Dan tidaklah menjadi kebiasaan Tuhanmu membinasakan mana-mana negeri sebelum Ia mengutus ke ibu negeri itu seorang Rasul yang akan membacakan kepada penduduknya ayat-ayat keterangan Kami; dan tidaklah menjadi kebiasaan Kami membinasakan mana-mana negeri melainkan setelah penduduknya berlaku zalim.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

آیت 59 وَمَا کَانَ رَبُّکَ مُہْلِکَ الْقُرٰی حَتّٰی یَبْعَثَ فِیْٓ اُمِّہَا رَسُوْلًا ”یعنی اللہ تعالیٰ کسی بستی تک دعوت حق پہنچائے بغیر اس پر عذاب نہیں بھیجتا۔ اس سلسلے میں اللہ کا اصول اور طریقہ ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ پہلے متعلقہ قوم کی طرف باقاعدہ ایک رسول مبعوث کیا جاتا جو حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا واضح کر کے اس قوم پر حجت قائم کردیتا۔ پھر اس کے بعد بھی جو لوگ اپنے کفر پر اڑے رہتے انہیں عذاب کے ذریعے نیست و نابود کردیا جاتا۔ یہی اصول سورة بنی اسرائیل میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے : وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلاً ”اور ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کہ کوئی رسول علیہ السلام نہ بھیج دیں“۔ آیت زیر مطالعہ میں اس اصول کی مزید وضاحت اس طرح کی گئی ہے کہ کسی قوم کی طرف رسول بھیجنے کا مطلب یہ نہیں کہ اس علاقے کے ہر ہر گاؤں اور ہر ہر بستی میں رسول مبعوث کیے جاتے تھے بلکہ اس کا طریقہ اور معیار یہ رہا ہے کہ متعلقہ قوم کے مرکزی شہر میں رسول بھیج دیا جاتا تھا۔وَمَا کُنَّا مُہْلِکِی الْقُآٰی اِلَّا وَاَہْلُہَا ظٰلِمُوْنَ ””ظالم“ کا لفظ مشرک ‘ کافر ‘ گنہگار اور ظلم و ناانصافی کرنے والے ‘ سب کو محیط ہے۔