Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tazkir ul Quran Tafsir: Al-Munaafiquun Ayah 5

63:5
واذا قيل لهم تعالوا يستغفر لكم رسول الله لووا رءوسهم ورايتهم يصدون وهم مستكبرون ٥
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا۟ يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُولُ ٱللَّهِ لَوَّوْا۟ رُءُوسَهُمْ وَرَأَيْتَهُمْ يَصُدُّونَ وَهُم مُّسْتَكْبِرُونَ ٥
وَإِذَاﱁ
قِيلَﱂ
لَهُمۡﱃ
تَعَالَوۡاْﱄ
يَسۡتَغۡفِرۡﱅ
لَكُمۡﱆ
رَسُولُﱇ
ٱللَّهِﱈ
لَوَّوۡاْﱉ
رُءُوسَهُمۡﱊ
وَرَأَيۡتَهُمۡﱋ
يَصُدُّونَﱌ
وَهُمﱍ
مُّسۡتَكۡبِرُونَﱎ
٥ﱏ
Dan apabila dikatakan kepada mereka: " Marilah (bertaubat) supaya Rasulullah meminta ampun (kepada Allah) untuk kamu", mereka (enggan sambil) menggeleng-gelengkan kepalanya; dan engkau melihat mereka berpaling (dari bertaubat) serta mereka berlaku sombong angkuh.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 63:4 hingga 63:6

منافق آدمی مصلحت پرستی کے ذریعہ اپنے مفادات کو محفوظ رکھتا ہے۔ وہ حق ناحق کی بحث میں نہیں پڑتا۔ اس لیے ہر ایک سے اس کا بناؤ رہتا ہے۔ اس کی زندگی غم سے خالی ہوتی ہے۔ یہ چیزیں اس کے جسم کو فربہ بنا دیتی ہیں۔ وہ لوگوں کے مزاج کی رعایت کرکے بولتا ہے۔ اس لیے اس کی باتوں میں ہر ایک اپنے لیے دل چسپی کا سامان پا لیتا ہے۔ مگر یہ بظاہر ہرے بھرے درخت حقیقۃً صرف سوکھی لکڑیاں ہوتے ہیں جن میں کوئی زندگی نہ ہو۔ وہ اندر سے بزدل ہوتے ہیں۔ ان کے نزدیک ان کا دنیوی مفاد ہر دینی مفاد سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔ ایسے لوگ ایمان کے بلند بانگ مدعی ہونے کے باوجود خدا کی ہدایت سے یکسر محروم ہیں۔