Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Mu’minuun 23:105

23:105
الم تكن اياتي تتلى عليكم فكنتم بها تكذبون ١٠٥
أَلَمْ تَكُنْ ءَايَـٰتِى تُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ فَكُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ ١٠٥
أَلَمۡ
تَكُنۡ
ءَايَٰتِي
تُتۡلَىٰ
عَلَيۡكُمۡ
فَكُنتُم
بِهَا
تُكَذِّبُونَ
١٠٥
(Sambil dikatakan kepada mereka): "Bukankah ayat-ayatKu selalu dibacakan kepada kamu, lalu kamu terus-menerus mendustakannya?"
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 23:105 hingga 23:107
مکمل آگاہی کے بعد بھی محروم ہدایت ٭٭

کافروں کو ان کے کفر اور گناہوں پر ایمان نہ لانے پر قیامت کے دن جو ڈانٹ ڈپٹ ہو گی، اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ان سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ «رُّسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّـهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَكَانَ اللَّـهُ عَزِيزًا حَكِيمًا» [ 4-النساء: 165 ] ‏ ”میں نے تمہاری طرف رسول بھیجے تھے، تم پر کتابیں نازل فرمائی تھیں، تمہارے شک زائل کر دئیے تھے تمہاری کوئی حجت باقی نہیں رکھی تھی جیسے فرمان ہے کہ تاکہ لوگوں کا عذر رسولوں کے آنے کے بعد باقی نہ رہے۔‏“

اور فرمایا «وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبْعَثَ رَسُولًا» [ 17-الإسراء: 15 ] ‏ ”ہم جب تک رسول نہ بھیج دیں عذاب نہیں کرتے“ ایک اور آیت میں ہے «تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ كُلَّمَا أُلْقِيَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌ قَالُوا بَلَىٰ قَدْ جَاءَنَا نَذِيرٌ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللَّـهُ مِن شَيْءٍ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا فِي ضَلَالٍ كَبِيرٍ وَقَالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ فَاعْتَرَفُوا بِذَنبِهِمْ فَسُحْقًا لِّأَصْحَابِ السَّعِيرِ» [ 67-الملك: 8-11 ] ‏ ”جب جہنم میں کوئی جماعت جائے گی اس سے وہاں کے داروغے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس اللہ کی طرف سے آگاہ کرنے والے آئے نہ تھے“؟ اس وقت یہ حرماں نصیب لوگ اقرار کریں گے کہ بیشک تیری حجت پوری ہو گئی تھی لیکن ہم اپنی بدقسمتی اور سخت دلی کے باعث درست نہ ہوئے اپنی گمراہی پر اڑ گئے اور راہ راست پر نہ چلے۔ اللہ اب تو ہمیں پھر دنیا کی طرف بھیج دے اگر اب ایسا کریں تو بیشک ہم ظالم ہیں اور مستحق سزا ہیں،

جیسے فرمان ہے «فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِيْلٍ ذَٰلِكُم بِأَنَّهُ إِذَا دُعِيَ اللَّـهُ وَحْدَهُ كَفَرْتُمْ وَإِن يُشْرَكْ بِهِ تُؤْمِنُوا فَالْحُكْمُ لِلَّـهِ الْعَلِيِّ الْكَبِيرِ» [ 40- غافر: 12، 11 ] ‏ ہمیں اپنی تقصیروں کا اقرار ہے کیا اب کسی طرح بھی چھٹکارے کی راہ مل سکتی ہے؟ لیکن جواب دیا جائے گا کہ اب سب راہیں بند ہیں۔ دار فنا ہو گیا، اب دار جزا ہے۔ توحید کے وقت شرک کیا، اب پچھتانے سے کیا حاصل؟

صفحہ نمبر5821