Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Ma'idah 5:85

5:85
فاثابهم الله بما قالوا جنات تجري من تحتها الانهار خالدين فيها وذالك جزاء المحسنين ٨٥
فَأَثَـٰبَهُمُ ٱللَّهُ بِمَا قَالُوا۟ جَنَّـٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ خَـٰلِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ جَزَآءُ ٱلْمُحْسِنِينَ ٨٥
فَأَثَٰبَهُمُ
ٱللَّهُ
بِمَا
قَالُواْ
جَنَّٰتٖ
تَجۡرِي
مِن
تَحۡتِهَا
ٱلۡأَنۡهَٰرُ
خَٰلِدِينَ
فِيهَاۚ
وَذَٰلِكَ
جَزَآءُ
ٱلۡمُحۡسِنِينَ
٨٥
Lalu Allah memberikan pahala kepada mereka disebabkan (pengakuan iman yang ikhlas) yang telah mereka ucapkan, (iaitu mereka dibalas dengan) Syurga yang mengalir di bawahnya beberapa sungai; mereka pula tetap kekal di dalamnya. Dan yang demikian itu, adalah balasan orang-orang yang berusaha berbuat kebaikan.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 5:83 hingga 5:86
ایمان والو کی پہچان ٭٭

اوپر بیان گزر چکا ہے کہ عیسائیوں میں سے جو نیک دل لوگ اس پاک مذہب اسلام کو قبول کئے ہوئے ہیں ان میں جو اچھے اوصاف ہیں مثلاً عبادت، علم، تواضع، انکساری وغیرہ، ساتھ ہی ان میں رحمدلی وغیرہ بھی ہے حق کی قبولیت بھی ہے اللہ کے احکامات کی اطلاعت بھی ہے ادب اور لحاظ سے کلام اللہ سنتے ہیں، اس سے اثر لیتے ہیں اور نرم دلی سے رو دیتے ہیں کیونکہ وہ حق کے جاننے والے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بشارت سے پہلے ہی آگاہ ہوچکے ہیں۔ اس لیے قرآن سنتے ہی دل موم ہو جاتے ہیں۔ ایک طرف آنکھیں آنسو بہانے لگتی ہیں دوری جانب زبان سے حق کو تسلیم کرتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ آیتیں نجاشی رحمة الله اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:12330:مرسل] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ”کچھ لوگ جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ جشہ سے آئے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے قرآن کریم سن کر ایمان لائے اور بے تحاشا رونے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریاف فرمایا کہ کہیں اپنے وطن پہنچ کر اس سے پھر تو نہیں جاؤ گے؟ انہوں نے کہا ناممکن ہے اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے۔‏“ [طبرانی کبیر:12455:ضعیف] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”شاہدوں سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کی تبلیغ کی شہادت ہے۔‏“

صفحہ نمبر2411

پھر اس قسم کے نصرانیوں کا ایک اور وصف بیان ہو رہا ہے ان ہی کا دوسرا وصف اس آیت میں ہے «وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَن يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّـهِ» [3-آل عمران:199] ‏ یعنی ” اہل کتاب میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ پر اور اس قرآن پر اور جو ان پر نازل کیا گیا ہے سب پر ایمان رکھتے ہیں اور پھر اللہ سے ڈرنے والے بھی ہیں “۔

ان ہی کے بارے میں فرمان ربانی ہے «اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ يُؤْمِنُوْنَ وَاِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖٓ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَآ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِيْنَ اُولٰىِٕكَ يُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَيَدْرَءُوْنَ بالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۡ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ» ‏ [28۔ القصص:52 - 55] ‏۔ کہ ” یہ لوگ اس کتاب کو اور اس کتاب کو سچ جانتے ہیں اور دونوں پر ایمان رکھتے ہیں “۔

پس یہاں بھی فرمایا کہ ” وہ کہتے ہیں کہ جب ہمیں صالحین میں ملنا ہے تو اللہ پر اور اس کی اس آخری کتاب پر ہم ایمان کیوں نہ لائیں؟ ان کے اس ایمان و تصدیق اور قبولیت حق کا بدلہ اللہ نے انہیں یہ دیا کہ وہ ہمیشہ رہنے والے تروتازہ باغات و چشموں والی جنتوں میں جائیں گے۔ محسن، نیکوکار، مطیع حق، تابع فرمان الٰہی لوگوں کی جزا یہی ہے، وہ کہیں کے بھی ہوں کوئی بھی ہوں۔ جو ان کے خلاف ہیں انجام کے لحاظ سے بھی ان کے برعکس ہیں، کفرو تکذب اور مخالفت یہاں ان کا شیوہ ہے اور وہاں جہنم ان کا ٹھکانا ہے “۔

صفحہ نمبر2412