Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Ma'idah 5:15

5:15
يا اهل الكتاب قد جاءكم رسولنا يبين لكم كثيرا مما كنتم تخفون من الكتاب ويعفو عن كثير قد جاءكم من الله نور وكتاب مبين ١٥
يَـٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَـٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًۭا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ ٱلْكِتَـٰبِ وَيَعْفُوا۟ عَن كَثِيرٍۢ ۚ قَدْ جَآءَكُم مِّنَ ٱللَّهِ نُورٌۭ وَكِتَـٰبٌۭ مُّبِينٌۭ ١٥
يَٰٓأَهۡلَ
ٱلۡكِتَٰبِ
قَدۡ
جَآءَكُمۡ
رَسُولُنَا
يُبَيِّنُ
لَكُمۡ
كَثِيرٗا
مِّمَّا
كُنتُمۡ
تُخۡفُونَ
مِنَ
ٱلۡكِتَٰبِ
وَيَعۡفُواْ
عَن
كَثِيرٖۚ
قَدۡ
جَآءَكُم
مِّنَ
ٱللَّهِ
نُورٞ
وَكِتَٰبٞ
مُّبِينٞ
١٥
Wahai Ahli Kitab! Sesungguhnya telah datang kepada kamu Rasul Kami (Muhammad, s.a.w) dengan menerangkan kepada kamu banyak dari (keterangan-keterangan dan hukum-hukum) yang telah kamu sembunyikan dari Kitab Suci, dan ia memaafkan kamu (dengan tidak mendedahkan) banyak perkara (yang kamu sembunyikan). Sesungguhnya telah datang kepada kamu cahaya kebenaran (Nabi Muhammad) dari Allah, dan sebuah Kitab (Al-Quran) yang jelas nyata keterangannya.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 5:15 hingga 5:16
علمی بددیانت ٭٭

فرماتا ہے کہ ” رب الاعلیٰ نے اپنے عالی قدر رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ تمام مخلوق کی طرف بھیج دیا ہے، معجزے اور روشن دلیلیں انہیں عطا فرمائی ہیں جو باتیں یہود و نصاریٰ نے بدل ڈالی تھیں، تاویلیں کرکے دوسرے مطلب بنا لیے تھے اور اللہ کی ذات پر بہتان باندھتے تھے، کتاب اللہ کے جو حصے اپنے نفس کے خلاف پاتے تھے، انہیں چھپا لیتے تھے، ان سب علمی بد دیانتیوں کو یہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بے نقاب کرتے ہیں۔ ہاں جس کے بیان کی ضرورت ہی نہ ہو، بیان نہیں فرماتے “۔

مستدرک حاکم میں ہے ”جس نے رجم کے مسئلہ کا انکار کیا، اس نے بےعملی سے قرآن سے انکار کیا۔‏“ چنانچہ اس آیت میں اسی رجم کے چھپانے کا ذکر ہے۔

پھر قرآن عظیم کی بابت فرماتا ہے کہ ” اسی نے اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی یہ کتاب اتاری ہے، جو جویائے حق کو سلامتی کی راہ بتاتی ہے، لوگوں کو ظلمتوں سے نکال کر نور کی طرف لے جاتی ہے اور راہ مستقیم کی رہبر ہے اس کتاب کی وجہ سے اللہ کے انعاموں کو حاصل کر لینا اور اس کی سزاؤں سے بچ جانا بالکل آسان ہو گیا ہے یہ ضلالت کو مٹا دینے والی اور ہدایت کو واضح کر دینے والی ہے “۔

صفحہ نمبر2235