Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Ma'idah 5:112

5:112
اذ قال الحواريون يا عيسى ابن مريم هل يستطيع ربك ان ينزل علينا مايدة من السماء قال اتقوا الله ان كنتم مومنين ١١٢
إِذْ قَالَ ٱلْحَوَارِيُّونَ يَـٰعِيسَى ٱبْنَ مَرْيَمَ هَلْ يَسْتَطِيعُ رَبُّكَ أَن يُنَزِّلَ عَلَيْنَا مَآئِدَةًۭ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ ۖ قَالَ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ١١٢
إِذۡ
قَالَ
ٱلۡحَوَارِيُّونَ
يَٰعِيسَى
ٱبۡنَ
مَرۡيَمَ
هَلۡ
يَسۡتَطِيعُ
رَبُّكَ
أَن
يُنَزِّلَ
عَلَيۡنَا
مَآئِدَةٗ
مِّنَ
ٱلسَّمَآءِۖ
قَالَ
ٱتَّقُواْ
ٱللَّهَ
إِن
كُنتُم
مُّؤۡمِنِينَ
١١٢
Dan (ingatlah) ketika orang orang Hawariyyiin berkata: "Wahai Isa Ibni Maryam! Dapatkah kiranya Tuhanmu berkenan menurunkan kepada kami satu hidangan dari langit?" Nabi Isa menjawab: "Bertaqwalah kamu kepada Allah jika benar kamu orang-orang yang beriman".
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 5:112 hingga 5:113
بنی اسرائیل کی ناشکری اور عذاب الٰہی ٭٭

یہ مائدہ کا واقعہ ہے اور اسی کی وجہ سے اس سورت کا نام سورۃ المائدہ ہے یہ بھی جناب مسیح علیہ السلام کی نبوت کی ایک زبردست دلیل اور آپ علیہ السلام کا ایک اعلی معجزہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا سے آسمانی دستر خوان اتارا اور آپ علیہ السلام کی سچائی ظاہر کی۔ بعض ائمہ نے فرمایا ہے کہ اس کا ذکر موجودہ انجیل میں نہیں عیسائیوں نے اسے مسلمانوں سے لیا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے آپ علیہ السلام سے تمنا کرتے ہیں کہ اگر ہو سکے تو اللہ تعالیٰ سے ایک خوان کھانے سے بھرا ہوا طلب کیجئے ایک قرأت میں آیت «‏ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ هَلْ يَسْتَطِيعُ رَبُّكَ» [5-المائدہ:112] ‏ یعنی ” کیا آپ سے یہ ہو سکتا ہے؟ کہ آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے دعا کریں؟ “۔

مائدہ کہتے ہیں اس دستر خوان کو جس پر کھانا رکھا ہوا ہو، بعض لوگوں کا بیان ہے کہ انہوں نے بوجہ فقر و فاقہ، تنگی اور حاجت کے یہ سوال کیا تھا، جناب مسیح علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ ”اللہ پر بھروسہ رکھو اور رزق کی تلاش کرو، ایسے انوکھے سوالات نہ کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ فتنہ ہو جائے اور تمہارے ایمان ڈگمگا جائیں۔‏“

انہوں نے جواب دیا کہ اے اللہ کے رسول علیہ السلام ہم تو کھانے پینے سے تنگ ہو رہے ہیں محتاج ہو گئے ہیں اس سے ہمارے دل مطمئن ہو جائیں گے کیونکہ ہم اپنی آنکھوں سے اپنی روزیاں آسمان سے اترتی خود دیکھ لیں گے، اسی طرح آپ علیہ السلام پر جو ایمان ہے وہ بھی بڑھ جائے گا، آپ علیہ السلام کی رسالت کو یوں تو ہم مانتے ہی ہیں لیکن یہ دیکھ کر ہمارا یقین اور بڑھ جائے گا اور اس پر خود ہم گواہ بن جائیں گے، اللہ کی قدرت اور آپ علیہ السلام کے معجزہ کی یہ ایک روشن دلیل ہوگی جس کی شہادت ہم خود دیں گے اور یہ آپ علیہ السلام کی نبوت کی کافی دلیل ہوگی۔

صفحہ نمبر2504