Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tazkir ul Quran Tafsir: Al-Jumu'ah Ayah 8

62:8
قل ان الموت الذي تفرون منه فانه ملاقيكم ثم تردون الى عالم الغيب والشهادة فينبيكم بما كنتم تعملون ٨
قُلْ إِنَّ ٱلْمَوْتَ ٱلَّذِى تَفِرُّونَ مِنْهُ فَإِنَّهُۥ مُلَـٰقِيكُمْ ۖ ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَىٰ عَـٰلِمِ ٱلْغَيْبِ وَٱلشَّهَـٰدَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ٨
قُلۡﲱ
إِنَّﲲ
ٱلۡمَوۡتَﲳ
ٱلَّذِيﲴ
تَفِرُّونَﲵ
مِنۡهُﲶ
فَإِنَّهُۥﲷ
مُلَٰقِيكُمۡۖﲸﲹ
ثُمَّﲺ
تُرَدُّونَﲻ
إِلَىٰﲼ
عَٰلِمِﲽ
ٱلۡغَيۡبِﲾ
وَٱلشَّهَٰدَةِﲿ
فَيُنَبِّئُكُمﳀ
بِمَاﳁ
كُنتُمۡﳂ
تَعۡمَلُونَﳃ
٨ﳄ
Katakanlah (wahai Muhammad): "Sebenarnya maut yang kamu melarikan diri daripadanya itu, tetaplah ia akan menemui kamu; kemudian kamu akan dikembalikan kepada Allah yang mengetahui segala yang ghaib dan yang nyata, lalu Ia memberitahu kepada kamu apa yang kamu telah lakukan (serta membalasnya)".
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 62:5 hingga 62:8

خدا کی کتاب جب کسی قوم کو دی جاتی ہے تو اس لیے دی جاتی ہے کہ وہ اس کو اپنے اندر اتارے اور اس کو اپنی زندگی میں اپنائے۔ مگر جو قوم اس معنی میں کتاب آسمانی کی حامل نہ بن سکے اس کی مثال اس گدھے کی سی ہوگی جس کے اوپر علمی کتابیں لدی ہوئی ہوں اور اس کو کچھ خبر نہ ہو کہ اس کے اوپر کیا ہے۔

یہود نے اگرچہ عملی طور پر خدا کے دین کو چھوڑ رکھا تھا، اس کے باوجود وہ اس کو اپنے قومی فخر کا نشان بنائے ہوئے تھے۔ مگر اس قسم کا فخر کسی کے کچھ کام آنے والا نہیں۔ ایسا فخر ہمیشہ جھوٹا فخر ہوتا ہے۔ اور اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ آدمی جس دین کو اپنے فخر کا سامان بنائے ہوئے ہوتا ہے اس کے لیے وہ قربانی دینے کو تیار نہیں ہوتا۔ تاہم جب موت آئے گی تو ایسے لوگ جان لیں گے کہ دنیا میں وہ جس فخر پر جی رہے تھے وہ آخرت میں انہیں ذلت کے سوا اور کچھ دینے والا نہیں۔