Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Jumu'ah 62:11

62:11
واذا راوا تجارة او لهوا انفضوا اليها وتركوك قايما قل ما عند الله خير من اللهو ومن التجارة والله خير الرازقين ١١
وَإِذَا رَأَوْا۟ تِجَـٰرَةً أَوْ لَهْوًا ٱنفَضُّوٓا۟ إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَآئِمًۭا ۚ قُلْ مَا عِندَ ٱللَّهِ خَيْرٌۭ مِّنَ ٱللَّهْوِ وَمِنَ ٱلتِّجَـٰرَةِ ۚ وَٱللَّهُ خَيْرُ ٱلرَّٰزِقِينَ ١١
وَإِذَا
رَأَوۡاْ
تِجَٰرَةً
أَوۡ
لَهۡوًا
ٱنفَضُّوٓاْ
إِلَيۡهَا
وَتَرَكُوكَ
قَآئِمٗاۚ
قُلۡ
مَا
عِندَ
ٱللَّهِ
خَيۡرٞ
مِّنَ
ٱللَّهۡوِ
وَمِنَ
ٱلتِّجَٰرَةِۚ
وَٱللَّهُ
خَيۡرُ
ٱلرَّٰزِقِينَ
١١
Dan apabila mereka mengetahui kedatangan barang-barang dagangan (yang baharu tiba) atau (mendengar) sesuatu hiburan, mereka bersurai (lalu pergi) kepadanya dengan meninggalkan engkau berdiri (di atas mimbar - berkhutbah). Katakanlah (wahai Muhammad:" Pahala - balasan) yang ada di sisi Allah, lebih baik dari hiburan dan barang-barang dagangan itu; dan Allah sebaik-baik pemberi rezeki.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

آیت 1 1{ وَاِذَا رَاَوْ تِجَارَۃً اَوْ لَہْوَا نِ انْفَضُّوْآ اِلَـیْہَا } ”اور جب انہوں نے دیکھا تجارت کا معاملہ یا کوئی کھیل تماشا تو اس کی طرف چل دیے“ { وَتَرَکُوْکَ قَآئِمًا } ”اور آپ ﷺ کو کھڑا چھوڑ دیا۔“ یہ خاص طور پر منافقین کے طرز عمل کا ذکر ہے کہ وہ تجارت اور کھیل تماشے کو اللہ کے ذکر پر ترجیح دیتے ہیں۔ اس آیت کا شان نزول یہ بیان کیا جاتا ہے کہ مدینہ طیبہ میں شام سے ایک تجارتی قافلہ عین نماز جمعہ کے وقت آیا اور اہل شہر کو اطلاع دینے کے لیے ڈھول بجانے شروع کردیے۔ چونکہ قحط کا زمانہ تھا ‘ لہٰذا حاضرین مسجد قافلے کی آمد کی اطلاع پا کر فوراً اس کی طرف لپکے۔ رسول اللہ ﷺ اس وقت خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ اکثر لوگ اس دوران اٹھ کر چلے گئے اور تھوڑے لوگ باقی رہ گئے جن میں عشرئہ مبشرہ بھی شامل تھے۔ واضح رہے کہ یہ واقعہ ہجرت کے بعد بالکل قریبی دور کا ہے جبکہ لوگوں کو صحبت ِنبوی ﷺ سے فیض یاب ہونے کا موقع بہت کم ملا تھا۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ ابتدا میں عیدین کے خطبہ کی طرح جمعہ کا خطبہ بھی نماز کے بعد ہوتا تھا ‘ اس لیے خطبہ کے دوران اٹھ کر جانے والے لوگوں نے یہی سمجھا ہوگا کہ نماز تو پڑھی جا چکی ہے اس لیے اب اٹھ جانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ بہرحال اس آیت میں بھی ڈانٹ کا انداز ہے اور اس میں جس واقعہ کی طرف اشارہ ہے اس سے بھی مسلمانوں کی صفوں میں اسی کمزوری کی نشاندہی ہوتی ہے جس کا ذکر قبل ازیں سورة الحدید کے مطالعہ کے دوران تفصیل سے کیا جا چکا ہے۔ { قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰہِ خَیْـرٌ مِّنَ اللَّہْوِ وَمِنَ التِّجَارَۃِط وَاللّٰہُ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ۔ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجیے کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ کہیں بہتر ہے کھیل کود اور تجارت سے۔ اور اللہ بہترین رزق عطا کرنے والا ہے۔“