Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Jaathiyah 45:32

45:32
واذا قيل ان وعد الله حق والساعة لا ريب فيها قلتم ما ندري ما الساعة ان نظن الا ظنا وما نحن بمستيقنين ٣٢
وَإِذَا قِيلَ إِنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقٌّۭ وَٱلسَّاعَةُ لَا رَيْبَ فِيهَا قُلْتُم مَّا نَدْرِى مَا ٱلسَّاعَةُ إِن نَّظُنُّ إِلَّا ظَنًّۭا وَمَا نَحْنُ بِمُسْتَيْقِنِينَ ٣٢
وَإِذَا
قِيلَ
إِنَّ
وَعۡدَ
ٱللَّهِ
حَقّٞ
وَٱلسَّاعَةُ
لَا
رَيۡبَ
فِيهَا
قُلۡتُم
مَّا
نَدۡرِي
مَا
ٱلسَّاعَةُ
إِن
نَّظُنُّ
إِلَّا
ظَنّٗا
وَمَا
نَحۡنُ
بِمُسۡتَيۡقِنِينَ
٣٢
"Dan apabila dikatakan (kepada kamu): ` Sesungguhnya janji Allah (membalas amal kamu) adalah benar, dan hari kiamat tidak ada sebarang syak tentang kedatangannya ', kamu berkata: ` Kami tidak mengetahui apa dia hari kiamat itu; kami hanya mengira (kemungkinannya) sebagai sangkaan jua, dan kami tidak sekali-kali meyakininya '."
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 45:30 hingga 45:32
کبریائی اللہ عزوجل کی چادر ہے ٭٭

ان آیتوں میں اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے اس فیصلے کی خبر دیتا ہے جو وہ آخرت کے دن اپنے بندوں کے درمیان کرے گا۔ جو لوگ اپنے دل سے ایمان لائے اور اپنے ہاتھ پاؤں سے مطابق شرع نیک نیتی کے ساتھ اچھے عمل کئے انہیں اپنے کرم و رحم سے جنت عطا فرمائے گا «رحمت» سے مراد جنت ہے۔

جیسے صحیح حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا: تو میری رحمت ہے جسے میں چاہوں گا تجھے عطا فرماؤں گا ۔ [صحیح بخاری:4850] ‏

کھلی کامیابی اور حقیقی مراد کو حاصل کر لینا یہی ہے اور جو لوگ ایمان سے رک گئے بلکہ کفر کیا ان سے قیامت کے دن بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا کہ کیا اللہ تعالیٰ کی آیتیں تمہارے سامنے نہیں پڑھی جاتی تھیں؟، یعنی یقیناً پڑھی جاتی تھیں اور تمہیں سنائی جاتی تھیں پھر بھی تم نے غرور و نخوت میں آ کر ان کی اتباع نہ کی۔ بلکہ ان سے منہ پھیرے رہے، اپنے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے فرمان کی تکذیب لیے ہوئے تم نے ظاہراً اپنے افعال میں بھی اس کی نافرمانی کی، گناہوں پر گناہ دلیری سے کرتے چلے گئے، (‏جب کہا جاتا)‏ اور قیامت ضرور قائم ہو گی اس کے آنے میں کوئی شک نہیں، تو تم پلٹ کر جواب دے دیا کرتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کسے کہتے ہیں؟ ہمیں اگرچہ کچھ یوں ہی سا وہم ہوتا ہے لیکن ہرگز یقین نہیں کہ قیامت ضرور ہی آئے گی۔

صفحہ نمبر8422