Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Israa' 17:35

17:35
واوفوا الكيل اذا كلتم وزنوا بالقسطاس المستقيم ذالك خير واحسن تاويلا ٣٥
وَأَوْفُوا۟ ٱلْكَيْلَ إِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوا۟ بِٱلْقِسْطَاسِ ٱلْمُسْتَقِيمِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌۭ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًۭا ٣٥
وَأَوۡفُواْ
ٱلۡكَيۡلَ
إِذَا
كِلۡتُمۡ
وَزِنُواْ
بِٱلۡقِسۡطَاسِ
ٱلۡمُسۡتَقِيمِۚ
ذَٰلِكَ
خَيۡرٞ
وَأَحۡسَنُ
تَأۡوِيلٗا
٣٥
Dan sempurnakanlah sukatan apabila kamu menyukat, dan timbanglah dengan timbangan yang adil. Yang demikian itu baik (kesannya bagi kamu di dunia) dan sebaik baik kesudahan (yang mendatangkan pahala di akhirat kelak).
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 17:34 hingga 17:35
یتیم کا مال ٭٭

یتیم کے مال میں بد نیتی سے ہیر پھیر نہ کرو، «وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَهُمْ إِلَىٰ أَمْوَالِكُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ حُوبًا كَبِيرًا» ‏ [4-النساء:2] ‏ ان کے مال ان کی بلوغت سے پہلے صاف کر ڈالنے کے ناپاک ارادوں سے بچو۔

«وَلَا تَأْكُلُوهَا إِسْرَافًا وَبِدَارًا أَن يَكْبَرُوا ۚ وَمَن كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ ۖ وَمَن كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ» [4-النساء:6] ‏

جس کی پرورش میں یہ یتیم بچے ہوں اگر وہ خود مالدار ہے تب تو اسے ان یتیموں کے مال سے بالکل الگ رہنا چاہیئے اور اگر وہ فقیر محتاج ہے تو خیر بقدر معروف کھالے۔ صحیح مسلم شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے فرمایا میں تو تجھے بہت کمزور دیکھ رہا ہوں اور تیرے لیے وہی پسند فرماتا ہوں، جو خود اپنے لیے چاہتا ہوں۔ خبردار کبھی دو شخصوں کا والی نہ بننا اور نہ کبھی یتیم کے مال کا متولی بننا۔ [صحیح مسلم:1826] ‏

پھر فرماتا ہے وعدہ وفائی کیا کرو جو وعدے وعید جو لین دین ہو جائے اس کی پاسبانی کرو اس کی بابت قیامت کے دن جواب دہی ہو گی۔ ناپ پیمانہ پورا پورا بھر کر دیا کرو لوگوں کو ان کی چیز گھٹا کر کم نہ دو۔ «قِسْطَاسِ» کی دوسری قرأت «قَسْطَاسْ» بھی ہے پھر حکم ہوتا ہے بغیر پاسنگ کی صحیح وزن بتانے والی سیدھی ترازو سے بغیر ڈنڈی مارے تولا کرو، دونوں جہان میں تم سب کے لیے یہی بہتری ہے۔ دنیا میں بھی یہ تمہارے لین دین کی رونق ہے اور آخرت میں بھی یہ تمہارے چھٹکارے کی دلیل ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اے تاجرو تمہیں ان دو چیزوں کو سونپا گیا ہے جن کی وجہ سے تم سے پہلے کے لوگ برباد ہو گئے یعنی ناپ تول۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو شخص کسی حرام پر قدرت رکھتے ہوئے صرف خوف اللہ سے اسے چھوڑ دے تو اللہ تعالیٰ اسی دنیا میں اسے اس سے بہتر چیز عطا فرمائے گا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:22306:مرسل] ‏

صفحہ نمبر4692