Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Israa' 17:18

17:18
من كان يريد العاجلة عجلنا له فيها ما نشاء لمن نريد ثم جعلنا له جهنم يصلاها مذموما مدحورا ١٨
مَّن كَانَ يُرِيدُ ٱلْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُۥ فِيهَا مَا نَشَآءُ لِمَن نُّرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُۥ جَهَنَّمَ يَصْلَىٰهَا مَذْمُومًۭا مَّدْحُورًۭا ١٨
مَّن
كَانَ
يُرِيدُ
ٱلۡعَاجِلَةَ
عَجَّلۡنَا
لَهُۥ
فِيهَا
مَا
نَشَآءُ
لِمَن
نُّرِيدُ
ثُمَّ
جَعَلۡنَا
لَهُۥ
جَهَنَّمَ
يَصۡلَىٰهَا
مَذۡمُومٗا
مَّدۡحُورٗا
١٨
Sesiapa yang menghendaki (kesenangan hidup) dunia, Kami akan segerakan kepadanya dalam dunia apa yang Kami kehendaki, bagi sesiapa yang Kami kehendaki; kemudian Kami sediakan baginya neraka Jahannam (di akhirat kelak), untuk membakarnya dalam keadaan yang hina lagi tersingkir dari rahmat Allah.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 17:18 hingga 17:19
طالب دنیا کی چاہت ٭٭

کچھ ضروری نہیں کہ طالب دنیا کی ہر ایک چاہت پوری ہو، جس کا جو ارادہ اللہ پورا کرنا چاہے کر دے لیکن ہاں ایسے لوگ آخرت میں خالی ہاتھ رہ جائیں گے۔ یہ تو وہاں جہنم کے گڑھے میں گھرے ہوئے ہوں گے نہایت برے حال میں ذلت و خواری میں ہوں گے۔ کیونکہ یہاں انہوں نے یہی کیا تھا، فانی کو باقی پر دنیا کو آخرت پر ترجیح دی تھی اس لیے وہاں رحمت الٰہی سے دور ہیں۔

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دنیا اس کا گھر ہے جس کا آخرت میں گھر نہ ہو، یہ اس کا مال ہے جس کا آخرت میں مال نہ ہو، اسے وہی جمع کرتا رہتا ہے جس کے پاس اپنی گرہ کی عقل بالکل نہ ہو۔ [مسند احمد:71/6:قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

ہاں جو صحیح طریقے سے طالب دار آخرت ہو جائے اور آخرت میں کام آنے والی نیکیاں سنت کے مطابق کرتا رہے اور اس کے دل میں بھی ایمان تصدیق اور یقین ہو عذاب و ثواب کے وعدے صحیح جانتا ہو، اللہ و رسول کو مانتا ہو، ان کی کوشش قدر دانی سے دیکھی جائے گی نیک بدلہ ملے گا۔

صفحہ نمبر4668