Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Bayan ul Quran Tafsir: Al-Insaan Ayah 1

76:1
هل اتى على الانسان حين من الدهر لم يكن شييا مذكورا ١
هَلْ أَتَىٰ عَلَى ٱلْإِنسَـٰنِ حِينٌۭ مِّنَ ٱلدَّهْرِ لَمْ يَكُن شَيْـًۭٔا مَّذْكُورًا ١
هَلۡﲫ
أَتَىٰﲬ
عَلَىﲭ
ٱلۡإِنسَٰنِﲮ
حِينٞﲯ
مِّنَﲰ
ٱلدَّهۡرِﲱ
لَمۡﲲ
يَكُنﲳ
شَيۡـٔٗاﲴ
مَّذۡكُورًاﲵ
١ﲶ
Bukankah telah berlalu kepada manusia satu ketika dari masa (yang beredar), sedang ia (masih belum wujud lagi, dan) tidak menjadi sesuatu benda yang disebut-sebut, (maka mengapa kaum musyrik itu mengingkari hari akhirat)?
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

آیت 1{ ہَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّہْرِ لَمْ یَکُنْ شَیْئًا مَّذْکُوْرًا۔ } ”کیا انسان پر اس زمانے میں ایک ایسا وقت بھی گزرا ہے جبکہ وہ کوئی قابل ذکر شے نہ تھا ؟“ ”دَہْر“ سے مراد وہ لامتناہی زمانہ ہے جس کی نہ ابتدا انسان کو معلوم ہے نہ انتہا ‘ جبکہ ”حِیْن“ سے مراد وہ خاص وقت ہے جو اس لامتناہی زمانے کے اندر کبھی پیش آیا ہو - - چناچہ ”دَہْر“ دراصل وقت کا وہ سمندر ہے جس کے اندر سے کائنات میں رونما ہونے والے ہر قسم کے واقعات و حادثات جنم لیتے ہیں۔ وقت کے اسی سمندر میں سے ہم انسان بھی نکلے ہیں۔ ع ”قلزمِ ہستی سے تو ابھرا ہے مانند ِحباب“ اقبال۔ چناچہ اس قلزم ہستی کے اندر ہر انسان پر ایک وقت ایسا بھی آیا ہے جب اس کا وجود حقیر پانی کی ایک ایسی بوند کی شکل میں تھا جس کا ذکر کرنا اور نام لینا بھی کوئی پسند نہیں کرتا۔