Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Hajj 22:8

22:8
ومن الناس من يجادل في الله بغير علم ولا هدى ولا كتاب منير ٨
وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يُجَـٰدِلُ فِى ٱللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍۢ وَلَا هُدًۭى وَلَا كِتَـٰبٍۢ مُّنِيرٍۢ ٨
وَمِنَ
ٱلنَّاسِ
مَن
يُجَٰدِلُ
فِي
ٱللَّهِ
بِغَيۡرِ
عِلۡمٖ
وَلَا
هُدٗى
وَلَا
كِتَٰبٖ
مُّنِيرٖ
٨
Dan ada di antara manusia yang membantah dalam perkara-perkara yang berhubung dengan Allah dengan tidak berdasarkan sebarang pengetahuan, dan tidak berdasarkan sebarang keterangan, dan tidak juga berdasarkan mana-mana Kitab Allah yang menerangi kebenaran;
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 22:8 hingga 22:11

ایک شخص وہ ہے جو دین کو کامل صداقت کے طورپر دریافت کرتاہے۔ دین اس کے دل ودماغ پر پوری طرح چھا جاتا ہے۔ وہ کسی تحفظ کے بغیر اپنے آپ کو دین کے حوالے کردیتاہے۔ اس کی نظر میں ہر دوسری چیز ثانوی بن جاتی ہے۔ یہی شخص خدا کی نظر میں سچا مومن ہے۔

دوسرے لوگ وہ ہیں جو بس اوپری جذبہ سے دین کو مانیں۔ ایسے لوگوں کی حقیقی دلچسپیاں اپنے مفادات سے وابستہ ہوتی ہیں۔ البتہ سطحی تأثر کے تحت وہ اپنے آپ کو دین سے بھی وابستہ کرلیتے ہیں۔ ان کی یہ وابستگی صرف اس وقت تک کے ليے ہوتی ہے جب تک دین کو اختیار کرنے سے انھیں کوئی نقصان نہ ہورہا ہو۔ ان کے مفادات پر اس سے کوئی زد نہ پڑتی ہو۔ جیسے ہی انھوں نے دیکھا کہ دین اوران کا مفاد دونوں ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے وہ فوراً ذاتی مفاد کو اختیارکر لیتے ہیں اور دین کوچھوڑ دیتے ہیں۔

یہی دوسري قسم کے لوگ ہیں، جن کو منافق کہاجاتا ہے۔ منافق انسان آخرت کو پانے میں بھی ناکام رہتا ہے اور دنیا کو پانے میں بھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا اور آخرت دونوں معاملہ میں کامیابی کے لیے ایک ہی لازمی شرط ہے، اور وہ یکسوئی ہے، اور یہی وہ قلبی صفت ہے جس سے منافق انسان ہمیشہ محروم ہوتا ہے۔ وہ اپنے دو طرفہ رجحان کی وجہ سے نہ پوری طرح آخرت کی طرف یکسو ہوتااور نہ پوری طرح دنیا کی طرف۔اس طرح وہ دونوں میں سے کسی کی بھی لازمی قیمت نہیں دے پاتا۔ ایسے لوگ دو طرفہ محرومی کی علامت بن کر رہ جاتے ہیں۔