Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Hajj 22:72

22:72
واذا تتلى عليهم اياتنا بينات تعرف في وجوه الذين كفروا المنكر يكادون يسطون بالذين يتلون عليهم اياتنا قل افانبيكم بشر من ذالكم النار وعدها الله الذين كفروا وبيس المصير ٧٢
وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ءَايَـٰتُنَا بَيِّنَـٰتٍۢ تَعْرِفُ فِى وُجُوهِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ٱلْمُنكَرَ ۖ يَكَادُونَ يَسْطُونَ بِٱلَّذِينَ يَتْلُونَ عَلَيْهِمْ ءَايَـٰتِنَا ۗ قُلْ أَفَأُنَبِّئُكُم بِشَرٍّۢ مِّن ذَٰلِكُمُ ۗ ٱلنَّارُ وَعَدَهَا ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ۖ وَبِئْسَ ٱلْمَصِيرُ ٧٢
وَإِذَا
تُتۡلَىٰ
عَلَيۡهِمۡ
ءَايَٰتُنَا
بَيِّنَٰتٖ
تَعۡرِفُ
فِي
وُجُوهِ
ٱلَّذِينَ
كَفَرُواْ
ٱلۡمُنكَرَۖ
يَكَادُونَ
يَسۡطُونَ
بِٱلَّذِينَ
يَتۡلُونَ
عَلَيۡهِمۡ
ءَايَٰتِنَاۗ
قُلۡ
أَفَأُنَبِّئُكُم
بِشَرّٖ
مِّن
ذَٰلِكُمُۚ
ٱلنَّارُ
وَعَدَهَا
ٱللَّهُ
ٱلَّذِينَ
كَفَرُواْۖ
وَبِئۡسَ
ٱلۡمَصِيرُ
٧٢
Dan apabila dibacakan kepada mereka ayat-ayat Kami yang jelas nyata, engkau akan dapat melihat pada muka orang-orang yang kafir itu tanda marah dan benci, hampir-hampir mereka hendak menerkam dan menyerang orang-orang yang membacakan ayat-ayat Kami kepada mereka. Katakanlah (wahai Muhammad): "Jika demikian, mahukah, aku khabarkan kepada kamu: yang lebih buruk lagi daripada apa yang telah menyebabkan kemarahan kamu itu? Ialah neraka yang telah dijanjikan oleh Allah kepada orang-orang yang kafir, dan itulah seburuk-buruk tempat kembali! "
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 22:71 hingga 22:72
شیطان کی تقلید ٭٭

بلاسند، بغیر دلیل کے اللہ کے سوا دوسرے کی پوجا پاٹ عبادت وبندگی کرنے والوں کا جہل وکفر بیان فرماتا ہے کہ شیطانی تقلید اور باپ دادا کی دیکھا دیکھی کے سوا نہ کوئی نقلی دلیل ان کے پاس ہے نہ عقلی۔ چنانچہ اور آیت میں ہے «وَمَنْ يَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ» [23-المؤمنون:117] ‏ ” جو بھی اللہ کے ساتھ دوسرے معبود کو بے دلیل پکارے اس سے اللہ خود ہی بازپرس کر لے گا۔ ناممکن ہے کہ ایسے ظالم چھٹکارا پاجائیں “۔

یہاں بھی فرمایا کہ ” ان ظالموں کا کوئی مددگار نہیں کہ اللہ کے کسی عذاب سے انہیں بچالے “۔ ان پر اللہ کے پاک کلام کی آیتیں، صحیح دلیلیں، واضح حجتیں جب پیش کی جاتی ہیں تو ان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی۔ اللہ کی توحید، رسولوں کی اتباع کو صاف طور پر بیان کیا تو انہیں سخت غصہ آیا، ان کی شکلیں بدل گئیں، تیوریوں پر بل پڑنے لگے آستینیں چڑھنے لگیں اگر بس چلے تو زبان کھینچ لیں، ایک لفظ حقانیت کا زمین پر نہ آنے دیں۔ اسی وقت گلا گھونٹ دیں، ان سچے خیرخواہوں کی اللہ کے دین کے مبلغوں کی برائیاں کرنے لگتے ہیں۔ زبانیں ان کے خلاف چلنے لگتی ہیں اور ممکن ہو تو ہاتھ بھی ان کے خلاف اٹھنے میں نہیں رکتے۔

فرمان ہوتا ہے کہ ” نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہہ دو کہ ایک طرف تو تم جو دکھ ان اللہ کے متوالوں کو پہنچانا چاہتے ہو اسے وزن کرو دوسری طرف اس دکھ کا وزن کر لو جو تمہیں یقیناً تمہارے کفر و انکار کی وجہ سے پہنچنے والا ہے پھر دیکھو کہ بدترین چیز کون سی ہے؟ وہ آتش دوزخ اور وہاں کے طرح طرح کے عذاب؟ یا جو تکلیف تم ان سچے موحدوں کو پہنچانا چاہتے ہو؟ گو یہ بھی تمہارے ارادے ہی ارادے ہیں اب تم ہی سمجھ لو کہ جہنم کیسی بری جگہ ہے؟ کس قدر ہولناک ہے؟ کس قدرایذاء دہندہ ہے؟ اور کتنی مشکل والی جگہ ہے؟ “ «إِنَّهَا سَاءَتْ مُسْتَقَرًّا وَمُقَامًا» [25-الفرقان:66] ‏ ” یقیناً وہ نہایت ہی بدترین جگہ اور بہت ہی خوفناک مقام ہے “، جہاں راحت و آرام کا نام بھی نہیں۔

صفحہ نمبر5667