Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Baqarah 2:15

2:15
الله يستهزي بهم ويمدهم في طغيانهم يعمهون ١٥
ٱللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِى طُغْيَـٰنِهِمْ يَعْمَهُونَ ١٥
ٱللَّهُ
يَسۡتَهۡزِئُ
بِهِمۡ
وَيَمُدُّهُمۡ
فِي
طُغۡيَٰنِهِمۡ
يَعۡمَهُونَ
١٥
Allah (membalas) memperolok-olok, dan membiarkan mereka meraba-raba dalam kesesatan mereka (yang melampaui batas itu).
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

آیت 15 اَللّٰہُ یَسْتَھْزِئُ بِھِمْ وَیَمُدُّھُمْ فِیْ طُغْیَانِھِمْ یَعْمَھُوْنَ اللہ تعالیٰ سرکشوں کی رسّی دراز کرتا ہے۔ کوئی شخص سرکشی کے راستے پر چل پڑے تو اللہ تعالیٰ اسے فوراً نہیں پکڑتا ‘ بلکہ اسے ڈھیل دیتا ہے کہ چلتے جاؤ جہاں تک جانا چاہتے ہو۔ تو ان کی بھی اللہ تعالیٰ رسّی دراز کر رہا ہے ‘ لیکن یہ سمجھتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ اصل میں مذاق تو اللہ کے نزدیک ان کا اڑ رہا ہے۔ لفظ ”یَعْمَھُوْنَ“ عقل کے اندھے پن کے لیے آیا ہے۔ اس کا مادہ ”ع م ھ“ ہے۔ آگے آیت 18 میں لفظ ”عُمْیٌ“ آ رہا ہے جو ”ع م ی“ سے ہے۔ ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ ”عَمِہَ یَعْمَہُ“ بصیرت سے محرومی کے لیے آتا ہے اور ”عَمِیَ یَعْمٰی“ بصارت سے محرومی کے لیے۔