Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Bayan ul Quran Tafsir: Al-Balad Ayah 16

90:16
او مسكينا ذا متربة ١٦
أَوْ مِسْكِينًۭا ذَا مَتْرَبَةٍۢ ١٦
أَوۡﲵ
مِسۡكِينٗاﲶ
ذَاﲷ
مَتۡرَبَةٖﲸ
١٦ﲹ
Atau kepada orang miskin yang terlantar di atas tanah.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

آیت 16{ اَوْ مِسْکِیْنًا ذَا مَتْرَبَۃٍ۔ } ”یا اس محتاج کو جو مٹی میں رُل رہا ہے۔“ یہ وہ فلسفہ ہے جس پر سورة الحدید کے مطالعہ کے دوران تفصیل سے گفتگو ہوچکی ہے۔ یہ مشکل گھاٹی دراصل ُ حب ِمال کی وہ چٹان ہے جو متعلقہ انسان کے لیے بھلائی کے راستے کو مسدود کیے کھڑی ہے۔ سورة الحدید کی آیت 18 کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے اسے گاڑی کی بریک سے تشبیہہ دی تھی۔ چناچہ مذکورہ گھاٹی کو عبور کرنے یا گاڑی کی بریک کو کھولنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ انسان اپنے مال کو اللہ کی رضا کے لیے محتاجوں اور ناداروں کی مدد کرنے اور بھلائی کے دوسروں کاموں پر دل کھول کر خرچ کرے۔ یعنی مال کی محبت کی آلودگی کو دل سے صاف کرنے کا طریقہ یہی ہے کہ اپنے پیارے مال کو اللہ تعالیٰ کی محبت پر قربان کردیا جائے۔ یاد رکھیں ! حب مال کی گندگی کو دل سے نکالے بغیر انسان کو ایمان کی حلاوت نصیب نہیں ہوسکتی۔ اس مضمون کی مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو سورة الحدید آیات 17 تا 20 کی تشریح۔