Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-A'raaf 7:51

7:51
الذين اتخذوا دينهم لهوا ولعبا وغرتهم الحياة الدنيا فاليوم ننساهم كما نسوا لقاء يومهم هاذا وما كانوا باياتنا يجحدون ٥١
ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ دِينَهُمْ لَهْوًۭا وَلَعِبًۭا وَغَرَّتْهُمُ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا ۚ فَٱلْيَوْمَ نَنسَىٰهُمْ كَمَا نَسُوا۟ لِقَآءَ يَوْمِهِمْ هَـٰذَا وَمَا كَانُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا يَجْحَدُونَ ٥١
ٱلَّذِينَ
ٱتَّخَذُواْ
دِينَهُمۡ
لَهۡوٗا
وَلَعِبٗا
وَغَرَّتۡهُمُ
ٱلۡحَيَوٰةُ
ٱلدُّنۡيَاۚ
فَٱلۡيَوۡمَ
نَنسَىٰهُمۡ
كَمَا
نَسُواْ
لِقَآءَ
يَوۡمِهِمۡ
هَٰذَا
وَمَا
كَانُواْ
بِـَٔايَٰتِنَا
يَجۡحَدُونَ
٥١
(Tuhan berfirman: Orang-orang kafir itu ialah) orang-orang yang menjadikan perkara-perkara ugama mereka sebagai hiburan yang melalaikan dan permainan, dan orang-orang yang telah terpedaya dengan kehidupan dunia (segala kemewahannya dan kelazatannya). Oleh itu, pada hari ini (hari kiamat), Kami lupakan (tidak hiraukan) mereka sebagaimana mereka telah lupa (tidak hiraukan persiapan-persipan untuk) menemui hari mereka ini, dan juga kerana mereka selalu mengingkari ayat-ayat keterangan Kami.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 7:50 hingga 7:51
جیسی کرنی ویسی بھرنی ٭٭

دوزخیوں کی ذلت و خواری اور ان کا بھیک مانگنا اور ڈانٹ دیا جانا بیان ہو رہا ہے کہ وہ جنتیوں سے پانی یا کھانا مانگیں گے۔ اپنے نزدیک کے رشتے، کنبے والے جیسے باپ، بیٹے، بھائی، بہن وغیرہ سے کہیں گے کہ ہم جل بھن رہے ہیں، بھوکے پیاسے ہیں، ہمیں ایک گھونٹ پانی یا ایک لقمہ کھانا دے دو۔ وہ بحکم الٰہی انہیں جواب دیں گے کہ یہ سب کچھ کفار پر حرام ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال ہوتا ہے کہ کس چیز کا صدقہ افضل ہے؟ فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ سب سے افضل خیرات پانی ہے۔ دیکھو جہنمی اہل جنت سے اسی کا سوال کریں گے۔ [مسند ابویعلیٰ:2673:اسنادہ فیه جهالة] ‏

مروی ہے کہ جب ابوطالب موت کی بیماری میں مبتلا ہوا تو قریشیوں نے اس سے کہا: کسی کو بھیج کر اپنے بھتیجے سے کہلواؤ کہ وہ تمہارے پاس جنتی انگور کا ایک خوشہ بھجوا دے تاکہ تیری بیماری جاتی رہے۔ جس وقت قاصد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا ہے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ کے پاس موجود تھے۔ سنتے ہی فرمانے لگے: اللہ نے جنت کی کھانے پینے کی چیزیں کافروں پر حرام کر دی ہیں۔ [الدر المنشور للسیوطی:166/3:مرسل] ‏

پھر ان کی بدکرداری بیان فرمائی کہ یہ لوگ دین حق کو ایک ہنسی کھیل سمجھے ہوئے تھے۔ دنیا کی زینت اور اس کے بناؤ چناؤ میں ہی عمر بھر مشغول رہے۔ یہ چونکہ اس دن کو بھول بسر گئے تھے۔ اس کے بدلے ہم بھی ان کے ساتھ ایسا معاملہ کریں گے جو کسی بھول جانے والے کا معاملہ ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ بھولنے سے پاک ہے، اس کے علم سے کوئی چیز نکل نہیں سکتی۔ فرماتا ہے: «لَا يَضِلُّ رَبِّيْ وَلَا يَنْسَى» [20-طه:52] ‏ ” نہ وہ بہکے، نہ بھولے۔ “

صفحہ نمبر2926

یہاں جو فرمایا: یہ صرف مقابلہ کیلئے ہے۔ جیسے فرمان ہے: «نَسُوا اللَّـهَ فَنَسِيَهُمْ» [9-التوبة:67] ‏

اور جیسے دوسری آیت میں ہے «قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰيٰتُنَا فَنَسِيْتَهَا وَكَذٰلِكَ الْيَوْمَ تُنْسٰى» [20-طه:126] ‏

فرمان ہے «وَقِيلَ الْيَوْمَ نَنسَاكُمْ كَمَا نَسِيتُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَـٰذَا» [45-الجاثية:34] ‏ ” تیرے پاس ہماری نشانیاں آئی تھیں جنہیں تو بھلا بیٹھا تھا اسی طرح آج تجھے بھی بھلا دیا جائے گا۔ “ وغیرہ۔

پس یہ بھلائیوں سے بالقصد بھلا دیئے جائیں گے۔ ہاں برائیاں اور عذاب برابر ہوتے رہیں گے۔ انہوں نے اس دن کی ملاقات کو بھلایا، ہم نے انہیں آگ میں چھوڑا، رحمت سے دور کیا جیسے یہ عمل سے دور تھے۔ صحیح حدیث میں ہے: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بندے سے فرمائے گا: کیا میں نے تجھے بیوی بچے نہیں دیئے تھے؟ یا عزت آبرو نہیں دی تھی؟ کیا گھوڑے اور اونٹ تیرے مطیع نہیں کئے تھے؟ اور کیا تجھے قسم قسم کی راحتوں میں آزاد نہیں رکھا تھا؟ بندہ جواب دے گا کہ ہاں پروردگار! بیشک تو نے ایسا ہی کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر کیا تو میری ملاقات پر ایمان رکھتا تھا؟ وہ جواب دے گا کہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پس میں بھی آج تجھے ایسا ہی بھول جاؤں گا جیسے تو مجھے بھول گیا تھا۔ [صحیح مسلم:2968] ‏

صفحہ نمبر2927