Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-A'raaf 7:2

7:2
كتاب انزل اليك فلا يكن في صدرك حرج منه لتنذر به وذكرى للمومنين ٢
كِتَـٰبٌ أُنزِلَ إِلَيْكَ فَلَا يَكُن فِى صَدْرِكَ حَرَجٌۭ مِّنْهُ لِتُنذِرَ بِهِۦ وَذِكْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ ٢
كِتَٰبٌ
أُنزِلَ
إِلَيۡكَ
فَلَا
يَكُن
فِي
صَدۡرِكَ
حَرَجٞ
مِّنۡهُ
لِتُنذِرَ
بِهِۦ
وَذِكۡرَىٰ
لِلۡمُؤۡمِنِينَ
٢
(Al-Quran ini) sebuah Kitab yang diturunkan kepadamu (wahai Muhammad dari Tuhanmu). Oleh itu, janganlah ada perasaan bimbang dalam dadamu mengenainya, supaya engkau memberi amaran dengan Al-Quran itu (kepada orang-orang yang ingkar), dan supaya menjadi peringatan bagi orang-orang yang beriman.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 7:1 hingga 7:3
باب

اس سورت کی ابتداء میں جو حروف ہیں، ان کے متعلق جو کچھ بیان ہمیں کرنا تھا، اسے تفصیل کے ساتھ سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں معہ اختلاف علماء کے ہم لکھ آئے ہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے معنی میں مروی ہے کہ ”اس سے مراد «اَنَا اللهُ اُفَصِّلُ» ہے یعنی میں اللہ ہوں، میں تفصیل وار بیان فرما رہا ہوں۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:14315] ‏

صفحہ نمبر2844

سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے بھی یہ مروی ہے۔

”یہ کتاب قرآن کریم تیری جانب تیرے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔ اس میں کوئی شک نہ کرنا، دل تنگ نہ ہونا، اس کے پہنچانے میں کسی سے نہ ڈرنا، نہ کسی کا لحاظ کرنا، بلکہ سابقہ اولوالعزم پیغمبروں علیہم السلام کی طرح صبر و استقامت کے ساتھ کلام اللہ کی تبلیغ مخلوق الٰہی میں کرنا۔ اس کا نزول اس لیے ہوا ہے کہ تو کافروں کو ڈرا کر ہوشیار اور چوکنا کر دے۔ یہ قرآن مومنوں کے لئے نصیحت و عبرت، وعظ و پند ہے۔“

اس کے بعد تمام دنیا کو حکم ہوتا ہے کہ ”اس نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری پیروی کرو، اس کے قدم بہ قدم چلو۔ یہ تمہارے رب کا بھیجا ہوا ہے، کلام اللہ تمہارے پاس لایا ہے۔ وہ اللہ تم سب کا خالق، مالک ہے اور تمام جان داروں کا رب ہے۔ خبردار! ہرگز ہرگز نبی سے ہٹ کر دوسرے کی تابعداری نہ کرنا ورنہ حکم عدولی پر سزا ملے گی۔ افسوس! تم بہت ہی کم نصیحت حاصل کرتے ہو۔“

جیسے فرمان ہے کہ ” گو تم چاہو لیکن اکثر لوگ اپنی بے ایمانی پر اڑے ہی رہیں گے۔ “ [12-يوسف:103] ‏

اور آیت میں ہے: «وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ» [6-الأنعام:116] ‏ یعنی ” اگر تو انسانوں کی کثرت کی طرف جھک جائے گا تو وہ بھی تجھے بہکا کر ہی چین لیں گے۔ “

سورۃ یوسف میں فرمان ہے: ” اکثر لوگ اللہ کو مانتے ہوئے بھی شرک سے باز نہیں رہتے۔ “ [12-يوسف:106] ‏

صفحہ نمبر2845