Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-A'raaf 7:184

7:184
اولم يتفكروا ما بصاحبهم من جنة ان هو الا نذير مبين ١٨٤
أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا۟ ۗ مَا بِصَاحِبِهِم مِّن جِنَّةٍ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌۭ مُّبِينٌ ١٨٤
أَوَلَمۡ
يَتَفَكَّرُواْۗ
مَا
بِصَاحِبِهِم
مِّن
جِنَّةٍۚ
إِنۡ
هُوَ
إِلَّا
نَذِيرٞ
مُّبِينٌ
١٨٤
Patutkah mereka (ingkar dan) tidak mahu memikirkan (dengan fikiran yang siuman bahawa) sahabat mereka (Muhammad) tidak sekali-kali mengidap penyakit gila (sebagaimana yang mereka tuduh itu), bahkan ia hanyalah seorang (Pesuruh Allah) yang memberi amaran yang jelas.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
صداقت رسالت پر اللہ کی گواہی ٭٭

کیا ان کافروں نے کبھی اس بات پر غور کیا کہ «وَمَا صَاحِبُكُم بِمَجْنُونٍ» [81-التكوير:22] ‏ ” جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جنون کی کوئی بات بھی ہے؟ “

جیسے فرمان ہے «قُلْ إِنَّمَا أَعِظُكُم بِوَاحِدَةٍ أَن تَقُومُوا لِلَّـهِ مَثْنَىٰ وَفُرَادَىٰ ثُمَّ تَتَفَكَّرُوا مَا بِصَاحِبِكُم مِّن جِنَّةٍ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ لَّكُم بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ» [34-سبأ:46] ‏ ” آؤ میری ایک بات تو مان لو، ذرا سی دیر خلوص کے ساتھ اللہ کو حاضر جان کر اکیلے وکیلے غور تو کرو کہ مجھ میں کون سا دیوانہ پن ہے؟ میں تو تمہیں آنے والے سخت خطرے کی اطلاع دے رہا ہوں کہ اس سے ہوشیار رہو۔ “

جب تم یہ کرو گے تو خود اس نتیجے پر پہنچ جاؤ گے کہ میں مجنون نہیں بلکہ اللہ کا پیغام دے کر تم میں بھیجا گیا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ صفا پہاڑ پر چڑھ کر قریشیوں کے ایک ایک قبیلے کا الگ الگ نام لے کر انہیں اللہ کے عذابوں سے ڈرایا اور اسی طرح صبح کر دی تو بعض کہنے لگے کہ دیوانہ ہو گیا ہے۔ اس پر یہ آیت اتری۔

صفحہ نمبر3148