Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-A'raaf 7:147

7:147
والذين كذبوا باياتنا ولقاء الاخرة حبطت اعمالهم هل يجزون الا ما كانوا يعملون ١٤٧
وَٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا وَلِقَآءِ ٱلْـَٔاخِرَةِ حَبِطَتْ أَعْمَـٰلُهُمْ ۚ هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ١٤٧
وَٱلَّذِينَ
كَذَّبُواْ
بِـَٔايَٰتِنَا
وَلِقَآءِ
ٱلۡأٓخِرَةِ
حَبِطَتۡ
أَعۡمَٰلُهُمۡۚ
هَلۡ
يُجۡزَوۡنَ
إِلَّا
مَا
كَانُواْ
يَعۡمَلُونَ
١٤٧
Dan orang-orang yang mendustakan ayat-ayat Kami dan pertemuan hari akhirat, gugurlah amal-amal mereka (yang baik). Mereka tidak diberikan balasan (pada hari akhirat) melainkan (bagi) apa yang mereka telah kerjakan (dari perbuatan kufur dan maksiat).
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 7:146 hingga 7:147
تکبر کا پھل محرومی ٭٭

تکبر کا نتیجہ ہمیشہ جہالت ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کو حق سمجھنے، اسے قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔ ان کی بےایمانی کی وجہ سے ان کے دل الٹ جاتے ہیں، آنکھ کان بےکار ہو جاتے ہیں۔ ان کی کجی ان کے دلوں کو بھی کج کر دیتی ہے۔

علماء کا مقولہ ہے کہ متکبر اور پوچھنے سے جی چرانے والا کبھی عالم نہیں ہو سکتا۔ جو شخص تھوڑی دیر کے لیے علم کے حاصل کرنے میں اپنے آپ کو دوسرے کے سامنے نہ جھکائے، وہ عمر بھر ذلت و رسوائی میں رہتا ہے۔ متکبر لوگوں کو قرآن کی سمجھ کہاں؟ وہ تو رب کی آیتوں سے بھاگتے رہتے ہیں۔ اس امت کے لوگ ہوں یا دوسری امتوں کے، سب کے ساتھ اللہ کا طریقہ یہی رہا ہے کہ تکبر کی وجہ سے حق کی پیروی نصیب نہیں ہوتی۔ چونکہ یہ لوگ اللہ کے عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں۔ اگرچہ یہ بڑے بڑے معجزے بھی دیکھ لیں، انہیں ایمان نصیب نہیں ہو گا۔ گو نجات کے راستے ان پر کھل جائیں لیکن اس راہ پر چلنا ان کے لیے دشوار ہے۔ ہاں بری راہ سامنے آتے ہی یہ بےطرح اس پر لپکتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کے دلوں میں جھٹلانا ہے اور اپنے اعمال کے نتیجوں سے بےخبر ہیں۔ جو لوگ ہماری آیتوں کو جھٹلائیں، آخرت کا یقین نہ رکھیں، اسی عقیدے پر مریں، ان کے اعمال اکارت ہیں۔ ہم کسی پر ظلم نہیں کرتے، بدلہ صرف کئے ہوئے اعمال کا ہی ملتا ہے۔ بھلے کا بھلا اور برے کا برا، جیسا کرو گے، ویسا بھرو گے۔

صفحہ نمبر3066