Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Anfaal 8:19

8:19
ان تستفتحوا فقد جاءكم الفتح وان تنتهوا فهو خير لكم وان تعودوا نعد ولن تغني عنكم فيتكم شييا ولو كثرت وان الله مع المومنين ١٩
إِن تَسْتَفْتِحُوا۟ فَقَدْ جَآءَكُمُ ٱلْفَتْحُ ۖ وَإِن تَنتَهُوا۟ فَهُوَ خَيْرٌۭ لَّكُمْ ۖ وَإِن تَعُودُوا۟ نَعُدْ وَلَن تُغْنِىَ عَنكُمْ فِئَتُكُمْ شَيْـًۭٔا وَلَوْ كَثُرَتْ وَأَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلْمُؤْمِنِينَ ١٩
إِن
تَسۡتَفۡتِحُواْ
فَقَدۡ
جَآءَكُمُ
ٱلۡفَتۡحُۖ
وَإِن
تَنتَهُواْ
فَهُوَ
خَيۡرٞ
لَّكُمۡۖ
وَإِن
تَعُودُواْ
نَعُدۡ
وَلَن
تُغۡنِيَ
عَنكُمۡ
فِئَتُكُمۡ
شَيۡـٔٗا
وَلَوۡ
كَثُرَتۡ
وَأَنَّ
ٱللَّهَ
مَعَ
ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
١٩
Jika kamu (hai orang-orang musyrik) memohon supaya diberi kemenangan (bagi pihak yang benar) maka sesungguhnya kemenangan (yang kamu pohonkan) itu telah datang (dan disaksikan oleh) kamu; dan jika kamu berhenti (daripada memusuhi Nabi Muhammad, s.a.w) maka yang demikian amat baik bagi kamu, dan jika kamu kembali (memusuhinya), Kami juga kembali (menolongnya mengalahkan kamu); dan golongan (angkatan perang) kamu tidak sekali-kali akan dapat menyelamatkan kamu sedikitpun, sekalipun ia lebih ramai; dan (yang demikian itu adalah kerana) sesungguhnya Allah beserta orang-orang yang beriman.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
ایمان والوں کا متعین و مددگار اللہ عزاسمہ ٭٭

اللہ تعالیٰ کافروں سے فرما رہا ہے کہ «إِن تَسْتَفْتِحُوا فَقَدْ جَاءَكُمُ الْفَتْحُ» ” تم یہ دعائیں کرتے تھے کہ ہم میں اور مسلمانوں میں اللہ تعالیٰ فیصلہ کر دے جو حق پر ہوا سے غالب کر دے اور اس کی مد فرمائے تو اب تمہاری یہ خواہش بھی پوری ہو گئی مسلمان بحکم الٰہی اپنے دشمنوں پر غالب آ گئے۔“ [سنن نسائی:221،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

ابوجہل نے بدر والے دن کہا تھا کہ اے اللہ ہم میں سے جو رشتوں ناتوں کا توڑنے والا ہو اور غیر معروف چیز لے کر آیا ہو اسے توکل کی لڑائی میں شکست دے پس اللہ تعالیٰ نے یہی کیا اور یہ اور اس کا لشکر ہار گئے، مکے سے نکلنے سے پہلے ان مشرکوں نے خانہ کعبہ کا غلاف پکڑ کر دعا کی تھی کہ الٰہی دونوں لشکروں میں سے تیرے نزدیک جو اعلیٰ ہو اور زیادہ بزرگ ہو اور زیادہ بہتری والا ہو تو اس کی مدد کر۔ پس اس آیت میں ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ ” لو اللہ کی مدد آ گئی تمہارا کہا ہوا پورا ہو گیا۔ ہم نے اپنے نبی کو جو ہمارے نزدیک بزرگ، بہتر اور اعلیٰ تھے غالب کر دیا۔“

خود قرآن نے ان کی دعا نقل کی ہے کہ یہ کہتے تھے دعا «وَاِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ» [ 8- الانفال: 32 ] ‏، ” الٰہی اگر یہ تیری جانب سے راست ہے تو تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور درد ناک عذاب ہم پر لا۔“

پھر فرماتا ہے «وَإِن تَعُودُوا نَعُدْ وَلَن تُغْنِيَ عَنكُمْ فِئَتُكُمْ شَيْئًا وَلَوْ كَثُرَتْ» کہ ” اگر اب بھی تم اپنے کفر سے باز آ جاؤ تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ اللہ جل جلالہ اور اس کے رسول کو نہ جھٹلاؤ تو دونوں جہان میں بھلائی پاؤ گے۔ “

اور «وَإِنْ عُدتُّمْ عُدْنَا» [ 17-الاسراء: 8 ] ‏ ” اگر پھر تم نے یہی کفر و گمراہی کو تو ہم بھی اسی طرح مسلمانوں کے ہاتھوں تمہیں پست کریں گے۔ اگر تم نے پھر اسی طرح فتح مانگی تو ہم پھر اپنے نیک بندوں پر اپنی مدد اتاریں گے “ لیکن اول قول قوی ہے۔

یاد رکھو گو تم سب کے سب مل کر چڑھائی کرو تمہاری تعداد کتنی ہی بڑھ جائے اپنے تمام لشکر جمع کر لو لیکن سب تدبیریں دھری کی دھری رہ جائیں گی۔ جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہو اسے کوئی مغلوب نہیں کر سکتا۔ «وَأَنَّ اللَّـهَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ» ظاہر ہے کہ ” خالق کائنات مومنوں کے ساتھ ہے“ اس لیے کہ وہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں۔

صفحہ نمبر3257