Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Anbiyaa' 21:109

21:109
فان تولوا فقل اذنتكم على سواء وان ادري اقريب ام بعيد ما توعدون ١٠٩
فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَقُلْ ءَاذَنتُكُمْ عَلَىٰ سَوَآءٍۢ ۖ وَإِنْ أَدْرِىٓ أَقَرِيبٌ أَم بَعِيدٌۭ مَّا تُوعَدُونَ ١٠٩
فَإِن
تَوَلَّوۡاْ
فَقُلۡ
ءَاذَنتُكُمۡ
عَلَىٰ
سَوَآءٖۖ
وَإِنۡ
أَدۡرِيٓ
أَقَرِيبٌ
أَم
بَعِيدٞ
مَّا
تُوعَدُونَ
١٠٩
Sekiranya mereka berpaling ingkar maka katakanlah: "Aku telah memberitahu kepada kamu (apa yang diwahyukan kepadaku) dengan keterangan yang jelas untuk kita bersama; dan aku tidak mengetahui sama ada (balasan buruk) yang dijanjikan kerana keingkaran kamu itu, sudah dekat atau masih jauh.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 21:107 hingga 21:112

خدا کی طرف سے جتنے پیغمبر آئے سب ایک ہی مقصد کے لیے آئے۔ ان کے ذریعہ خدا یہ چاہتا تھا کہ انسانوں کو حقیقت کا وہ علم دے جس کو اختیار کرکے وہ ابدی جنت کے باشندے بن سکتے ہیں۔ مگر انسان ہر بار پیغمبروں کو رد کرتا رہا۔

اس اعتبار سے تمام پیغمبر خدا کی رحمت تھے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا امتیاز یہ ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے ایک خصوصی عنایت کا ذریعہ بنایا۔ خدا نے یہ فیصلہ فرمایا کہ آپ کے ذریعہ ہدایت کے اس دروازے کو ہمیشہ کے لیے کھول دے جو اب تک ان کے اوپر بند پڑا ہوا تھا۔ اس بنا پر آپ کی مدعو قوم کے لیے اللہ تعالیٰ کا یہ خصوصی فیصلہ تھا کہ اس کو بہر حال حق کے راستے پر لانا ہے۔ تاکہ پیغمبر کے ساتھ ایک طاقت ور جماعت تیار ہو اور وہ دنیا میں انقلاب برپا کرکے تاریخ کے رخ کو موڑ دے۔ رحمت خداوندی کا یہ خصوصی منصوبہ آپ اور آپ کے اصحاب کے ذریعہ بہ تمام وکمال انجام پایا۔